74.5 F
Pakistan
Tuesday, September 29, 2026
HomeTechnologyاسٹارشپ کی اہم ترین آزمائشی پرواز، مدار تک پہنچنے میں بڑی کامیابی...

اسٹارشپ کی اہم ترین آزمائشی پرواز، مدار تک پہنچنے میں بڑی کامیابی حاصل کرلی

اسپیس ایکس کا اسٹارشپ اپنی 14ویں آزمائشی پرواز کے دوران زمین کے مدار میں پہنچ گیا اور 26 نئے اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس خلا میں چھوڑ دیے۔ مشن میں اسٹارشپ کے انجن، ہیٹ شیلڈ اور مستقبل میں دوبارہ استعمال کی صلاحیت کو جانچنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اسپیس ایکس کا اسٹارشپ اپنی 14ویں آزمائشی پرواز کے دوران زمین کے مدار میں پہنچ گیا ہے۔ اس پرواز میں خلائی جہاز کی کارکردگی، محفوظ واپسی اور دوبارہ استعمال کے لیے اس کی تیاری کو جانچا جا رہا ہے۔ پرواز کے ابتدائی مرحلے میں اسٹارشپ کے ویکیوم انجنوں میں سے ایک اچانک بند ہوگیا تھا، تاہم دیگر ضروری انجن کام کرتے رہے۔ صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد مشن کنٹرول نے اسٹارشپ کو مدار میں بھیجنے کا فیصلہ کیا اور ایک انجن کو دوبارہ مختصر وقت کے لیے چلایا گیا، جس کے بعد خلائی جہاز مدار کی جانب روانہ ہوگیا۔ ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے بھی اسٹارشپ کی پرواز پر اسپیس ایکس کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارشپ کو مدار میں پہنچانا اور مشن کے ہر مرحلے کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں مکمل کرنا قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق ناسا اور دیگر دل چسپی رکھنے والے افراد اسٹارشپ کے مشنز کو معمول کی پروازیں بنانے میں ممکنہ تعاون کے لیے پرجوش ہیں۔ اسپیس ایکس کے مطابق اسٹارشپ تقریباً 10 گھنٹے کے دوران زمین کے چھ چکر مکمل کرے گا۔ پرواز کے دوران ماہرین اس کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور مختلف مراحل پر یہ جائزہ لیا جائے گا کہ سفر معمول کے مطابق جاری ہے یا نہیں۔ پرواز کے تقریباً ایک گھنٹہ 28 منٹ بعد پہلا اہم جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی مرحلے پر مسئلہ سامنے آیا تو اسپیس ایکس اسٹارشپ کا انجن دوبارہ چلا کر اسے وقت سے پہلے زمین کی طرف واپس لانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس احتیاط کا مقصد خلائی جہاز کو مدار میں بے قابو ہونے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں وہ وہیں پھنس کر دوسرے سیٹلائٹس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس مشن کے دوران اسٹارشپ نے 26 نئے اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس بھی خلا میں چھوڑے ہیں۔ یہ اسٹارلنک سیٹلائٹس کی نئی نسل ہے، جنہیں موجودہ سیٹلائٹس کے مقابلے میں زیادہ صلاحیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ اسپیس ایکس نے پہلے سیٹلائٹس سے رابطہ قائم ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔ کمپنی کے مطابق وی 3 سیٹلائٹس میں وی 2 کے مقابلے میں زمین پر انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے کی صلاحیت تقریباً 10 گنا، جب کہ صارفین کی جانب سے ڈیٹا وصول کرنے کی صلاحیت 22 گنا زیادہ ہوگی۔ ان 26 سیٹلائٹس میں سے تین کو ایک اضافی کام بھی سونپا گیا ہے۔ ان میں خصوصی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو اسٹارشپ کی ہیٹ شیلڈ کی تصاویر لے کر زمین پر موجود ماہرین کو بھیجیں گے۔ ان تصاویر سے یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ مستقبل میں اسٹارشپ کو زمین پر واپس لانے کے لیے ہیٹ شیلڈ کتنی تیار ہے۔ ہیٹ شیلڈ اسٹارشپ کا وہ حفاظتی حصہ ہے جو زمین کی فضا میں واپس داخل ہوتے وقت خلائی جہاز کو شدید گرمی سے بچاتا ہے۔ اسٹارشپ تقریباً 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں داخل ہوسکتا ہے، اس لیے اس دوران ہیٹ شیلڈ کو انتہائی زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اسپیس ایکس اسٹارشپ کو مستقبل میں بار بار استعمال کرنا چاہتی ہے، اس لیے ہیٹ شیلڈ کا ہر پرواز کے بعد دوبارہ قابلِ استعمال رہنا اس مشن کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments