بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ایک اور بڑا ریکارڈ اپنے نام کرلیا اور ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 15 ہزار رنز مکمل کرنے والے دنیا کے دوسرے تیز ترین بیٹر بن گئے۔ اتوار کے روز بھارتی شہر تھروواننتھاپورم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کے 396 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ویرات کوہلی نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ کوہلی نے اننگز کے 29 ویں اوور میں الزاری جوزف کے ایک ہی اوور میں مسلسل 3 چوکے لگا کر ون ڈے کرکٹ میں 15 ہزار رنز مکمل کیے۔ یاد رہے کہ کوہلی میچ سے قبل 314 ون ڈے میچز کی 302 اننگز میں 14 ہزار 941 رنز بنا چکے تھے اور انہیں 15 ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف 59 رنز درکار تھے۔ 15 ہزار ون ڈے رنز مکمل کرنے والے بیٹرز کی فہرست میں سچن ٹنڈولکر سب سے آگے ہیں، ٹنڈولکر نے اپنے ون ڈے کیریئر میں 463 میچز کی 452 اننگز میں 18 ہزار 426 رنز بنائے، ان کا بہترین اسکور 200 ناٹ آؤٹ رہا جب کہ انہوں نے 49 سنچریاں اور 96 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ ویرات کوہلی اب 15 ہزار رنز مکمل کرنے کے ساتھ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آگئے ہیں تاہم انہوں نے یہ سنگ میل صرف 315 ویں میچز کی 303 ویں اننگز میں عبور کیا جب کہ سچن ٹنڈولکر نے 15 ہزار رنز 387 ویں میچز کی 377 ویں اننگز میں مکمل کیے تھے۔ اس طرح کوہلی نے یہ سنگِ میل ٹنڈولکر کے مقابلے میں 74 اننگز پہلے حاصل کیا، اس سے قبل بھی کوہلی کئی بڑے ون ڈے رنز کے سنگِ میل تیز رفتاری سے حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اس سنگِ میل کے بعد کوہلی کا مجموعی اسکور 15 ہزار 80 رنز تک پہنچ گیا جب کہ ان کی کیریئر ایوریج 59. 13 رنز فی اننگز ہوگئی ہے۔ اس سے قبل بھی ویرات کوہلی 8 ہزار، 9 ہزار، 10 ہزار، 11 ہزار، 12 ہزار، 13 ہزار اور 14 ہزار ون ڈے رنز مکمل کرنے والے تیز ترین بیٹر بن چکے ہیں۔ 15 ہزار رنز مکمل کرنے کے بعد کوہلی نے اپنی 55 ویں ون ڈے سنچری بھی اسکور کی، یہ ان کی ون ڈے کرکٹ میں تیسری تیز ترین سنچری تھی۔ اس سے پہلے ان کے نام 54 ون ڈے سنچریاں اور 79 نصف سنچریاں درج تھیں۔ 15 ہزار رنز بنانے والے کھلاڑی ون ڈے کرکٹ میں 15 ہزار یا اس سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں اب صرف دو نام شامل ہیں۔ سچن ٹنڈولکر: 463 میچز، 18 ہزار 426 رنز، بہترین اسکور 200 ناٹ آؤٹ، اوسط 44. 83، 49 سنچریاں اور 96 نصف سنچریاں۔ ویرات کوہلی: 315واں ون ڈے میچ کھیلتے ہوئے 15 ہزار رنز مکمل کیے، بہترین اسکور 183، جبکہ سنگِ میل سے قبل 54 سنچریاں اور 79 نصف سنچریاں ان کے ریکارڈ کا حصہ تھیں۔ واضح رہے کہ 15 ہزار رنز کے قریب موجود دیگر بڑے ناموں میں سری لنکا کے کمار سنگاکارا 14 ہزار 234 رنز، آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ 13 ہزار 704 رنز اور سری لنکا کے سنتھ جے سوریا 13 ہزار 430 رنز کے ساتھ نمایاں ہیں، تاہم ان میں سے کسی نے 15 ہزار کا ہندسہ عبور نہیں کیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف کوہلی کا ریکارڈ ویرات کوہلی کیلئے ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ سنگِ میل مزید اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کیریئر میں اس ٹیم کے خلاف ان کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ پہلے ون ڈے سے قبل کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 43 میچز کی 41 اننگز میں 2 ہزار 261 رنز بنائے تھے، جن میں 9 سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل تھیں اور ان کی اوسط 66. 50 رہی۔ تھروواننتھا پورم کا میدان بھی کوہلی کے لیے خاص رہا ہے۔ اس مقام پر وہ اس سے قبل دو ون ڈے میچز میں 199 رنز بنا چکے تھے اور دونوں مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے۔ جنوری 2023 میں سری لنکا کے خلاف اسی میدان پر انہوں نے 110 گیندوں پر ناقابل شکست 166 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی، جس میں 13 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔ 15 ہزار کے بعد بھی ریکارڈز کی دوڑ جاری کوہلی بھارت میں ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کے سچن ٹنڈولکر کے ریکارڈ کے بھی قریب ہیں۔ ٹنڈولکر نے بھارت میں 164 ون ڈے میچز میں 6 ہزار 976 رنز بنائے جب کہ کوہلی کے پاس اس سنگِ میل سے قبل بھارت میں 130 میچز میں 6 ہزار 867 رنز تھے، انہیں یہ ریکارڈ توڑنے کے لیے مزید 110 رنز درکار تھے۔ یوں 15 ہزار ون ڈے رنز مکمل کرکے ویرات کوہلی نے ایک بار پھر اپنی جگہ کرکٹ کی تاریخ کے بڑے ریکارڈ ساز بیٹرز میں مضبوط کرلی ہے، اب وہ ون ڈے رنز کے مجموعی ریکارڈ میں صرف سچن ٹنڈولکر سے پیچھے ہیں، جن کے 18 ہزار 426 رنز ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی اننگز خاص طور پر جارحانہ رہی۔ کوہلی نے اننگز کی ابتدائی 5 گیندوں میں ہی ایک چھکا لگایا اور مجموعی طور پر 9 چھکے اور 10 چوکے لگائے۔ ایک ون ڈے اننگز میں 9 چھکے لگانا ان کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے 37 سالہ ویرات کوہلی نے کہا کہ کیریئر کے موجودہ مرحلے پر انہیں اپنے کھیل کو مزید بہتر بنانے اور ایک قدم آگے جانے کا چیلنج ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر اپنے اندر ایک نیا انداز تلاش کرنا انہیں اچھا لگتا ہے اور اس تبدیلی سے انہیں بھارت یا آئی پی ایل کے لیے کھیلتے ہوئے بھی فائدہ ہورہا ہے۔ بھارتی بیٹر نے مزید کہا کہ نئے انداز نے انہیں زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ کھیلنے میں مدد دی ہے اور یہی چیز ان کی موجودہ کارکردگی میں بھی نظر آرہی ہے۔ ون ڈے کرکٹ میں کوہلی کا روایتی انداز زیادہ دیر تک وکٹ پر رہنے اور خطرہ کم لینے پر مبنی رہا ہے تاہم اب وہ سیٹ ہونے کے بعد ہر گیند سے زیادہ سے زیادہ رنز لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ رواں سال 2026 میں کوہلی نے 7 اننگز میں 523 رنز بنائے ہیں، ان کا اسٹرائیک ریٹ 116. 74 ہے جب کہ وہ تقریباً ہر 7. 59 گیندوں کے بعد ایک باؤنڈری لگا رہے ہیں۔ ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مثبت انداز میں کھیلیں گے کیوں کہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ غیر ضروری خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ ان کے مطابق ایک تجربہ کار کھلاڑی کے طور پر انہیں مثبت کرکٹ اور محتاط شاٹس کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ٹیم کو کامیابی تک پہنچانا ہے۔ کوہلی نے مزید کہا کہ ان کی توجہ کبھی ذاتی ریکارڈز یا سنگ میل پر نہیں رہی، بلکہ وہ میچ کی صورتحال کو سمجھ کر ٹیم کے لیے اپنا کام کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے طویل عرصے تک کھیلنے اور اس مقام تک پہنچنے پر وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں، اس لیے وہ سر جھکا کر محنت جاری رکھنا اور ملنے والے ہر موقع پر شکر گزار رہنا چاہتے ہیں۔ بھارتی بلے باز نے اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے فٹنس کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد ذہن کے ساتھ کھیلنے کے لیے جسمانی طور پر فٹ ہونا ضروری ہے۔ کوہلی کے مطابق جب وہ جسمانی طور پر فٹ ہوتے ہیں تو انہیں میدان میں اپنی مرضی کے مطابق کھیلنے اور اس پر عمل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ زیادہ تر ذہن کا کھیل ہے اور وہ کبھی بہت زیادہ پریکٹس کرنے والے کھلاڑی نہیں رہے۔ ان کے لیے ذہنی طور پر تازہ رہنا، موجودہ صورت حال پر توجہ دینا اور میدان میں کھل کر کھیلنا زیادہ اہم ہے۔ کوہلی نے کہا کہ شہرت، مداحوں کی محبت اور دنیا کی مصروفیات کے دوران یہ بھول جانا آسان ہوتا ہے کہ انسان نے اپنا سفر کہاں سے شروع کیا تھا، اس لیے وہ اپنے بچپن سے اب تک کے سفر کو یاد رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے لیے کھیلتے ہوئے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ یہ بھی ممکن تھا کہ انہیں بھارت کی نمائندگی کا موقع نہ ملتا۔ کوہلی کے مطابق بھارت کی نمائندگی کرنا، بڑے میدانوں میں شائقین کے سامنے کھیلنا اور ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کرنا وہی خواب تھا جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا اور آج وہ اسے حقیقت میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سر جھکا کر محنت جاری رکھنا، چہرے پر مسکراہٹ رکھنا اور اپنی کارکردگی سے دوسروں کو بھی خوش کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ کوہلی بھارت کی جانب سے 4 ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں اور 2011 میں ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کا حصہ تھے۔ 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی کوہلی کی کارکردگی نمایاں رہی۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں 765 رنز بنائے اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر رہے۔ اس دوران انہوں نے 3 سنچریاں اور 6 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف 2023 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کوہلی نے ون ڈے کرکٹ کی 50ویں سنچری مکمل کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ ورلڈ کپ کے 37 میچز میں کوہلی نے 1795 رنز بنائے ہیں۔ ان کی اوسط 59. 83 رہی ہے جب کہ ان کے نام 5 سنچریاں اور 12 نصف سنچریاں ہیں۔ ٹیسٹ اور ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب کوہلی کی توجہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ پر ہے۔ وہ تصدیق کرچکے ہیں کہ 2027 کا ورلڈ کپ بھارت کی جانب سے ان کا آخری ورلڈ کپ ہوگا۔ کوہلی کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش بھارت کو ورلڈ کپ جتوانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر میچ میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھارت کو کامیابی دلانے والے کھلاڑی بنیں اور یہ خواہش ان سے کبھی ختم نہیں ہوگی۔ کوہلی کے مطابق 2027 کے ورلڈ کپ میں ان کا خواب یہ ہے کہ فائنل میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے وہ بھارت کے لیے فیصلہ کن اننگز کھیلیں اور ٹیم کو ورلڈ کپ جتوائیں۔ بھارتی بیٹر نے کہا کہ اگر انہیں فائنل میں ایسی میچ جتوانے والی اننگز کھیلنے کا موقع مل گیا تو یہ ان کے لیے بہترین لمحہ ہوگا تاہم اگر وہ ایسا نہ بھی کرسکے اور بھارت ورلڈ کپ جیت جائے تو وہ اس پر بھی خوش ہوں گے۔



