سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں معاہدۂ مکّہ برائے مشترکہ دفاع کے رکن ممالک کے اعلیٰ ترین فوجی حکام کا ایک اہم اور اجلاس منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق اور سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ سیکیورٹی خطرات کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ اجلاس کے دوران شرکا نے مقدس شہر مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کی شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت مستعدی کی بھرپور تعریف کی۔ اجلاس کے دوران تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان انٹیلی جنس تعاون، باہمی رابطوں اور دفاعی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے طریقوں پر مفصل گفتگو ہوئی۔ تینوں ممالک کے ملٹری چیفس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاہدۂ مکہ کو اب فوری طور پر عملی اور مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں فوجی سربراہان کے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مکہ مکرمہ اور مملکت کی معاشی و شہری تنصیبات پر ہونے والے شنیع حملوں کے خلاف مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسی دوران سعودی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض، خمیس مشیط اور دیگر اہم علاقوں کی جانب کیے جانے والے مختلف حملوں کو ناکام بنایا۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق دفاعی نظام نے ریاض کی جانب بھیجے گئے دو حوثی ڈرونز اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضائی حد میں ہی تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ آرمکو ریفائنری پر حملے کی کوشش کے باعث آگ کے شعلے بھڑک اٹھے جبکہ جازان کے علاقے میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔ اس سیکیورٹی صورتحال پر تینوں ممالک کے عسکری رہنماؤں نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے کامل دفاع کی توثیق کی۔



