حقوق انسانی کی غیرسرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے فروری 2026 میں ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی، جس میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پر الزام لگایا گیا کہ اس نے ’جعلی پولیس مقابلوں‘ کو باقاعدہ پالیسی کے طور پر اختیار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے آٹھ ماہ کے دوران 670 سی سی ڈی مقابلے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 924 مشتبہ افراد جان سے گئے جبکہ اسی عرصے میں صرف دو پولیس اہلکار کی موت ہوئی۔ ایچ آر سی پی نے اس ’غیر معمولی عدم توازن‘ کو انفرادی بدعنوانی کی بجائے ایک منظم طرزِ عمل قرار دیا، جس کی وجہ سے صوبے میں قانون کی بالادستی اور آئینی تحفظات کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ان واقعات میں ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کے تحت لازمی ایف آئی اے تحقیقات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی ضابطہ فوجداری کی دفعات 174 تا 176 کے تحت مجسٹریٹ سے انکوائری کروائی گئی۔ پنجاب پر یہ الزامات تحقیقات کی روشنی میں ماورائے عدالت اموات، ادارہ جاتی ناکامی، پولیس کی صوابدید اور قانونی نگرانی کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ ان اموات کے نتیجے میں قانون کی بالادستی، عوامی اعتماد اور انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے 2026 کے ایک ایم فل تحقیقی مقالے میں ماورائے عدالت اموات کا تجزیہ ادارہ جاتی ناکامی (Institutional Failure) کے نظریے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ محققین محمد عرفان رئیس پدھیار، ڈاکٹر عامر حیات اور محمد ریاض خان نے پولیس مقابلوں کو صرف انفرادی زیادتی کے طور پر نہیں بلکہ ریاستی جرائم کے تناظر میں دیکھا ہے۔ آٹھ فروری، 2024 کو لاہور میں عام انتخابات کے دوران پولیس اہلکار ایک پولنگ سٹیشن پر پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی) اس تحقیق کے مطابق درج ذیل عوامل مل کر ماورائے عدالت قتل کوجنم دیتے ہیں۔ ۔ پولیس کی حد سے زیادہ صوابدید (Excessive Police Discretion) ۔ کمزور تفتیش اور ناکافی فارنزک طریقے ۔ غیر مؤثر استغاثہ (Ineffective Prosecution) ۔ عدالتی نگرانی کی کمی اور ۔ ادارہ جاتی استثنیٰ (Institutional Impunity) تحقیق میں ’ہاف فرائی‘ اور ’فل فرائی‘ کی اصطلاحات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے، جنہیں پاکستانی پولیس کے ہاں تشدد اور جبری اموات سے منسلک سماجی-ثقافتی اظہار کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کے ماورائے عدالت اموات صرف پنجاب میں نہیں ہو رہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ وبا موجود ہے۔ ہیومن رائٹس ڈیٹا اینالیسس گروپ 2009 کی مشترکہ رپورٹ کہ مطابق انڈین پنجاب میں 1984 سے 1995 تک جاری انسدادِ بغاوت مہم کے دوران ہونے والے مظالم کا مقداری تجزیہ کیا گیا، جس کے مطابق زبردستی گمشدگیاں اور ماورائے عدالت پھانسیوں اور لوگوں کی غیر قانونی تدفین کا بہت بڑی پیمانے پر ذکر ہے۔ ماورائے عدالت قتل کے رجحان کو سمجھنے کے لیے کئی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ ۔ ریاستی جبر (State Repression Theory) ۔ قانون کی کمزوری (Weak Rule of Law Theory) ۔ سکیورٹی ریاست (Security State Theory)اور ۔ نوآبادیاتی وراثت ماورائے عدالت اموات (Extrajudicial Killings) سے مراد وہ قتل ہیں، جو قانونی عدالت کے بغیر، سرکاری اہلکاروں یا ریاستی اداروں کے ہاتھوں کیے جائیں۔ یہ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان، خصوصاً صوبہ پنجاب میں، یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کا مرکز رہا ہے۔ پاکستان میں ماورائے عدالت اموات کی تاریخ کئی مراحل میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کے دور میں سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی جبر کے حصے کے طور پر ایسی اموات عام تھیں۔ 1990 کی دہائی میں کراچی میں نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے دوران پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوئے، لیکن پنجاب میں یہ مسئلہ بنیادی طور پر 2000 کی دہائی کے بعد، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں، زیادہ نمایاں ہوا۔ پنجاب میں اس رجحان کے کئی مخصوص اسباب ہیں جیسے کہ: 1. دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں 2. منشیات اور گینگ وار 3. سیاسی اور غیر سیاسی مداخلت ماورائے عدالت قتل کے انتہائی سنگین نتائج و مضمرات ہوتے ہیں جیسے کہ انسانی حقوق کی پامالی، قانون کی بالادستی پر برا اثر، بین الاقوامی ساکھ کا متاثر ہونا، معاشرتی عدم اعتماد اور منفی نفسیاتی اثرات شامل ہیں۔ البتہ پنجاب کی پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے ماورائے عدالت قتل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کے تیز رفتار اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے نتیجے میں صوبے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اس کے مطابق یہ کارروائیاں منظم جرائم پیشہ افراد، ڈرگ مافیا اور کرائے کے قاتلوں کے گروہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں، جو ماضی میں بڑی حد تک قانون کی گرفت سے باہر تھے۔ پنجاب میں ماورائے عدالت قتل ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو قانون کی کمزوری، سکیورٹی ایجنڈے اور ادارہ جاتی کلچر کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے، لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر انصاف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جائیں تو بہتر نتائج حاصل کئی جا سکتے ہیں۔ 1۔ پولیس کو آزاد اورخود مختیار بنایا جائے اور آئی جی کو ایک آزاد کمیشن مقرر کرے اور اس کے ہٹانے کی منظوری بھی اس کمیشن کی مرضی سے مشروط ہو۔ 2۔ پولیس مقابلے میں کسی بھی موت کی آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائے۔ 3۔ پولیس کی عمارتوں اور گاڑیوں میں کیمرے نصب کرنے کا انتظام کیا جائے اور پولیس کے ہر عمل کو کیمرے کی مدد سے مانیٹر کیا جائے۔ 4۔ پولیس کے پورے نظام کو آٹومیٹڈ کیا جائے۔ 5۔ پولیس مقابلوں کے مقدمات میں سائنسی گواہی کو پہلی اور آخری گواہی مانا جائے اور پولیس پر یہ وزن ہو کہ وہ ثابت کرے کہ یہ پولیس مقابلہ قانونی تھا، نہ کہ ملزم پر یہ وزن ہو، اس کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ 6۔ جو پولیس مقابلے جعلی ثابت ہوں تو ان میں ملوث پولیس افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ مصنف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈی جی ہیں جو آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی رہ چکے ہیں۔ اب وہ کراچی کی ایک لا یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ماورائے عدالت قتل پنجاب حقوق انسانی تحقیقات اموات ماورائے عدالت اموات سے مراد وہ قتل ہیں، جو قانونی عدالت کے بغیر، سرکاری اہلکاروں یا ریاستی اداروں کے ہاتھوں کیے جائیں۔ یہ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ثنا اللہ عباسی ہفتہ, ستمبر 26, 2026 – 08: 45 Main image: پانچ اگست، 2024 کو لاہور میں پولیس اہلکار ڈیوٹی دیتے نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی) نقطۂ نظر type: news related nodes: توہینِ مذہب پر ماورائے عدالت ہلاکتیں کب تک؟ پاکستانی قیدی کے ’ماورائے عدالت‘ قتل پر بھارت سے وضاحت طلب جس ڈاکو کا ’جتنا زیادہ سکور اتنی زیادہ سر کی قیمت: ‘ پنجاب پولیس پنجاب پولیس 15 پر کال کرنے پر صرف مدد نہیں خون دینے بھی آئے گی SEO Title: پنجاب میں ماورائے عدالت اموات اور اثرات copyright: show related homepage: Hide from Homepage



