وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، سعودی عرب سے یک جہتی، کشمیر اور فلسطین سمیت مختلف امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے بھارت کو پانی روکنے کی کسی بھی کوشش سے خبردار کرتے ہوئے اسے جنگ تصور کرنے کا اعلان کیا، جب کہ آزاد فلسطین اور القدس شریف کو اس کا دارالخلافہ بنانے کو واحد حل قرار دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی آیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر دشمن امن چاہے تو اس کے ساتھ امن قائم کرو۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن کے لیے پاکستان کی کاوشیں غیر متزلزل ہیں، جب کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جنگ روکنے کے لیے کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث دنیا معاشی دباؤ کا شکار ہوئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شریانیں ہیں اور امن کی جستجو سب سے مقدس مقصد ہے۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے رواں برس فروری میں شروع ہونے والی لڑائی میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے بڑے نقصانات ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو ایک ہی چھت کے نیچے جمع کیا اور امریکا و ایران کو میز پر لاکر تاریخی پیش رفت کی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چیلنجنگ صورت حال میں ڈپلومیسی کے لیے محنت کی اور ڈپلومیسی کی آواز دنیا میں گونجنی چاہیے۔ شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان کی امن کی خواہشوں کا عکاس ہے اور حرمین الشریفین مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے اور وہ 24 کروڑ پرامن پاکستانیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔ شہباز شریف نے بھارت کی شرپسندی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جھوٹا بیانیہ بنا کر پاکستان پر حملہ آور ہوا، جب کہ پاکستان نے اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں جانیں بچیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ انڈس ریور سسٹم کا پانی پاکستان کی زندگی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگ تصور ہوگی اور بھارت اس معاملے میں کوئی غلطی نہ کرے۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کا حل ضروری ہے، جب کہ کشمیر میں نسلوں نے غیر قانونی قبضے کے اثرات بھگتے ہیں۔ شہباز شریف نے کشمیریوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو حمایت کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ہمیشہ پاکستان کی شہ رگ رہے گا اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ خطاب کے دوران شہباز شریف نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باقی دنیا کے بچوں جیسے حقوق ملنے چاہییں، انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا غزہ کے بچوں کا وہ حق نہیں جو دوسرے بچوں کا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی مظالم اب مغربی پٹی تک بھی پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد فلسطین اور القدس شریف کو اس کا دارالخلافہ بنانا ہی واحد حل ہے۔ شہباز شریف نے لبنان اور شام میں اسرائیلی مظالم کی بھی مذمت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی دنیا کے لیے بدستور سب سے بڑا خطرہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایک لاکھ جانیں قربان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے پہاڑوں اور شہروں میں دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور آج پاکستانی فوج کی قربانیوں سے دنیا محفوظ ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ امن پسند دنیا اس حقیقت کو فراموش نہ کرے۔



