دو بڑی جنگوں میں ہونے والی بڑی تباہی اور ایٹم بم چلانے کے بعد یہ سوچا گیا کہ آج ہم نے دنیا کے ایک بڑے حصے اور لاکھوں افراد کو تباہ کیا ہے انہیں موت کی نیند سلا دیا ہے ، کل کو کوئی اور طاقتور ہم پر چڑھ دوڑے لہٰذا اس کا راستہ بند کرنا ضروری ہے اسی سوچ کے تحت اقوام متحدہ جیسے ادارے کی داغ بیل ڈالی گئی اس کا چارٹر یہ تھا کہ مختلف ممالک کے مابین. .. ۔



