72.6 F
Pakistan
Wednesday, September 23, 2026
HomeHealthگیس اور دل کے درد میں فرق کیسے کریں؟

گیس اور دل کے درد میں فرق کیسے کریں؟

سینے میں درد، جلن یا بھاری پن محسوس ہو تو بہت سے لوگ اسے فوراً گیس یا تیزابیت سمجھ لیتے ہیں، لیکن ہر بار وجہ معدے کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ بعض صورتوں میں دل سے جڑے مسائل بھی بدہضمی، سینے کی جلن یا بھاری پن جیسی محسوس ہوسکتی ہے، اس لیے علامات کو معمولی سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق دل اور معدے کے اوپری حصے ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں، اس لیے جسم میں پیدا ہونے والے درد کے سگنل بعض اوقات ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ دل کی تکلیف ہمیشہ شدید یا چبھنے والے درد کی صورت میں سامنے نہیں آتی بلکہ بعض افراد کو سینے میں دباؤ، جکڑن، بوجھ یا جلنے جیسا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ گیس یا تیزابیت کی صورت میں تکلیف عموماً کھانے کے بعد بڑھ سکتی ہے اور لیٹنے سے سینے کی جلن زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔ ڈکار آنا، پیٹ پھولنا، منہ میں کھٹا ذائقہ آنا یا معدے میں بھاری پن بھی ساتھ ہوسکتا ہے۔ تاہم صرف ان علامات کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ مسئلہ لازماً گیس ہی ہے۔ دوسری طرف اگر سینے کا درد یا دباؤ چند منٹ سے زیادہ برقرار رہے، بار بار واپس آئے یا چلنے، سیڑھیاں چڑھنے اور جسمانی محنت کے دوران شروع ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ خاص طور پر جب تکلیف بازو، کندھے، کمر، گردن یا جبڑے تک پھیلنے لگے تو فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ دل سے متعلق ہنگامی مسئلے میں سینے کی تکلیف کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، اچانک ٹھنڈا پسینہ، متلی، چکر، غیر معمولی کمزوری یا بے چینی بھی ہوسکتی ہے۔ کچھ لوگوں، خاص طور پر خواتین، بزرگ افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی تکلیف کی علامات روایتی انداز سے مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ ایک عام غلط فہمی یہ بھی ہے کہ اگر گیس کی دوا لینے سے درد کم ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف معدے کا تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق صرف دوا سے وقتی آرام ملنے کو حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، خاص طور پر اگر سینے کی تکلیف دوبارہ ہو یا اس کے ساتھ سانس پھولنے، پسینہ آنے یا درد پھیلنے جیسی علامات موجود ہوں۔ گھر میں کوئی ایسا یقینی ٹیسٹ نہیں جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ سینے کا درد گیس کی وجہ سے ہے یا دل کی بیماری سے۔ بعض اوقات دل کے مسئلے کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر معائنہ، ای سی جی اور دیگر ضروری ٹیسٹ تجویز کرسکتے ہیں۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، تمباکو نوشی یا پہلے سے دل کی بیماری رکھنے والے افراد کو سینے کی نئی یا غیر معمولی تکلیف پر خاص احتیاط کرنی چاہیے۔ خاندان میں کم عمری میں دل کی بیماری کی تاریخ بھی خطرے کا ایک اہم عنصر ہوسکتی ہے۔ اگر سینے میں اچانک شدید درد یا دباؤ شروع ہو، درد مسلسل رہے یا بازو، کمر، گردن یا جبڑے تک پھیلنے لگے، یا اس کے ساتھ سانس لینے میں مشکل، ٹھنڈا پسینہ، چکر یا شدید کمزوری ہو تو گھر پر خود تشخیص کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کریں۔ سینے کی تکلیف میں احتیاط اس لیے ضروری ہے کہ دل کے بعض مسائل میں بروقت علاج انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments