پرندوں کی چہچہاہٹ اکثر انسانوں کو سکون اور خوشی کا احساس دلاتی ہے، لیکن کیا کچھ پرندوں کی آوازیں دوسروں کے مقابلے میں واقعی زیادہ سریلی ہوتی ہیں؟ جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹیوبنگن کے سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق نے اس سوال کا سائنسی انداز میں جائزہ لیا ہے۔ تحقیق کے مطابق یورپی بلیک برڈ کی آواز سننے والوں کو سب سے زیادہ پسند آئی۔ تحقیق میں 84 افراد کو جنگلی پرندوں کی 123 مختلف اقسام کی آوازوں کی ریکارڈنگ سنائی گئی اور ان سے پوچھا گیا کہ انہیں ہر آواز کتنی خوشگوار محسوس ہوئی۔ نتائج میں عام یا یوریشین بلیک برڈ، جس کا سائنسی نام ”ٹَرڈَس مَیرُولا“ ہے، سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ اسے پانچ میں سے اوسطاً 4. 52 نمبر ملے۔ بلیک برڈ یورپ کے باغات، پارکوں اور جنگلات میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی آواز کو نرم، مدھر اور بانسری جیسی خصوصیات رکھنے والی آواز قرار دیا جاتا ہے۔ تحقیق میں یورپی گولڈ فنچ نے 4. 26، یورپی رابن نے 4. 04 اور بلیو ٹِٹ نے 3. 92 نمبر حاصل کیے۔ اس کے برعکس ’برن اول‘ کی آواز سب سے کم پسند کی گئی، جسے اوسطاً صرف 1. 32 نمبر ملے۔ اس پرندے کی آواز نسبتاً کھردری اور تیز چیخ جیسی ہوتی ہے۔ سائنس دانوں نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ کون سا پرندہ لوگوں کو زیادہ پسند آیا، بلکہ یہ جاننے کی بھی کوشش کی کہ آخر کسی پرندے کی آواز انسانوں کو خوشگوار کیوں محسوس ہوتی ہے۔ محققین نے آوازوں کی مختلف صوتی خصوصیات کا جائزہ لیا، جن میں آواز کی شدت، فریکوئنسی اور فریکوئنسی کا پھیلاؤ شامل تھا۔ تحقیق کے مطابق لوگ عموماً ایسی پرندوں کی آوازوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو نسبتاً نرم ہوں اور جن کی فریکوئنسی کی حد بہت زیادہ وسیع نہ ہو۔ تاہم ایک دلچسپ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ زیادہ پیچیدہ اور باریک صوتی ساخت رکھنے والی آوازیں بھی لوگوں کو زیادہ خوشگوار محسوس ہوئیں۔ محققین کے مطابق بظاہر یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ سادہ اور بار بار دہرائی جانے والی آوازیں انسانوں کو زیادہ پسند آئیں گی، لیکن تحقیق میں اس کے برعکس رجحان سامنے آیا۔ زیادہ پیچیدہ آوازوں کو مجموعی طور پر زیادہ پسند کیا گیا۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر نادین کالب کے مطابق کسی پرندے کی آواز کی خوبصورتی کسی ایک خصوصیت پر منحصر نہیں ہوتی۔ مختلف صوتی خصوصیات کا مجموعہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ انسان کسی آواز کو کتنا خوشگوار سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق بلیک برڈ، ولو واربلر اور بلیک کیپ کی آوازیں ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں، لیکن تینوں کو بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ پرندوں کے بارے میں لوگوں کی معلومات اس پسند پر نمایاں اثر نہیں ڈالتی تھیں۔ یعنی کسی شخص کا پرندوں کا ماہر ہونا یا پرندوں کی آوازیں پہچاننے کا تجربہ ضروری نہیں تھا کہ وہ کسی خاص آواز کو زیادہ پسند کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے پیچھے انسانی ارتقا بھی ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔ انسانی تاریخ کے بڑے حصے میں پرندوں کی آوازیں قدرتی ماحول کا حصہ رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ پرندوں کی معمول کی آوازیں انسانی ذہن کو اس بات کا اشارہ دیتی رہی ہوں کہ اردگرد کا ماحول نسبتاً محفوظ ہے۔ تاہم ماہرین اس نتیجے کو حتمی نہیں سمجھتے۔ یونیورسٹی آف وارک کی ماہر نفسیات ڈاکٹر اولگا فیہ، جوکہ اس تحقیق میں تو شامل نہیں تھیں لیکن ان کے مطابق انسانوں کی آوازوں کے بارے میں پسند کچھ حیاتیاتی عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے، لیکن ذاتی تجربات اور یادیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص کسی ایسی پرندے کی آواز بھی پسند کر سکتا ہے جو عمومی طور پر لوگوں کو کم خوشگوار لگتی ہو، کیونکہ اس آواز سے اس کی کوئی اچھی یاد وابستہ ہو۔ تحقیق کے نتائج مستقبل میں شہری منصوبہ بندی اور پارکوں کے ڈیزائن میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق شہروں میں صرف ٹریفک اور دیگر شور کم کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ اس بات پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے کہ لوگوں کو قدرتی ماحول میں کس قسم کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ تاہم محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارکوں یا شہروں میں اسپیکروں کے ذریعے زیادہ پرندوں کی آوازیں چلانا لوگوں کی ذہنی صحت کے لیے لازماً فائدہ مند ہوگا۔ ان کی سابقہ تحقیق میں قدرتی طور پر موجود پرندوں کی آوازوں کے مقابلے میں اسپیکروں سے اضافی پرندوں کی آوازیں چلانے سے زیادہ فلاحی فائدہ ثابت نہیں ہوا تھا۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صرف ان پرندوں پر توجہ دینا جن کی آوازیں انسانوں کو خوبصورت لگتی ہیں، تحفظِ ماحول کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ایسی انواع جن کی آوازیں انسانوں کو کم خوشگوار لگتی ہیں، وہ بھی ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ موجودہ مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ پرندوں کی کن صوتی خصوصیات کا تعلق انسانی پسند سے ہے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ انسانی دماغ ان خصوصیات کو کیوں ترجیح دیتا ہے۔ آئندہ تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا مختلف ثقافتوں اور مختلف ماحول میں رہنے والے لوگوں کی پرندوں کی آوازوں کے بارے میں پسند بھی ایک جیسی ہوتی ہے یا نہیں۔ یوں اس مطالعے نے اگرچہ کسی ایک پرندے کو سائنسی طور پر ’’دنیا کا سب سے سریلا پرندہ‘‘ قرار نہیں دیا، تاہم اس کے شرکا کی پسند میں یورپی بلیک برڈ سب سے نمایاں رہا۔ تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پرندوں کی آواز کا انسانی تجربہ صرف یہ نہیں کہ ہم اسے سنتے ہیں، بلکہ اس کے ذریعے ہمارا قدرتی ماحول سے تعلق بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
کون سا پرندہ سب سے سریلی آواز میں گاتا ہے؟ نئے سائنسی مطالعے میں انکشاف
RELATED ARTICLES



