72.3 F
Pakistan
Monday, September 21, 2026
HomeBreaking Newsسانحہ کوہاٹ، نیشنل ایکشن پلان کی عدم تکمیل، ذمہ دار کون ۔۔۔؟؟؟

سانحہ کوہاٹ، نیشنل ایکشن پلان کی عدم تکمیل، ذمہ دار کون ۔۔۔؟؟؟

کوہاٹ میرا شہر ہے ۔ میرے آبا اجداد وہاں مدفون ہیں ۔ یقینا میری بھی خواہش یہی ہے کہ مجھے اپنی مٹی نصیب ہو۔ شہر کوہاٹ کی غمی و خوشی کا سیکڑوں میل دور بھی ہمارے اوپر گہرا اثر مرتب ہوتا ہے ۔ جمعہ کے روز پیش Èنے والے اندوہناک واقعے نے جہاں کلیجہ چھلنی کر دیا ، وہیں یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ Èخر کیسے اور کیونکر یہ منظم دہشت گردی ہو رہی ہے۔ سانحہ کوہاٹ نے ایک بار پھر ملک کے فرنٹ لائن سکیورٹی زونز کی حفاظت اور نیشنل ایکشن پلان کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اولڈ پولیس لائنز کوہاٹ کی مسجد میں ہونے والا خودکش کار بم دھماکہ کوئی عام واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے ہائی سکیورٹی زون میں ہوا جہاں سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ جیسے اہم ترین دفاتر موجود ہیں۔ اس المیے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ 2014 میں بننے والے قومی سلامتی کے اس جامع منصوبے کی عدم تکمیل اور مسلسل ناکامی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں، خیبرپختونخوا میں 2024 سے لیکر آج کی تاریخ تک تقریباً 25 سو سے زائد دہشت گردی کے ہولناک واقعات ہوئے ہیں ۔جن میں سیکڑوں معصوم جان سے گئے ۔ خاص طور پر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ۔ خیبر پختونخوا پولیس نے فرنٹ لائن فورس کی اعلی مثال قائم کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار رہا ہے، جس میں ملک کو جانی اور مالی دونوں سطحوں پر ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم، 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے Èرمی پبلک سکول پر ہونے والے ہولناک حملے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس المیے نے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک ایسے نکتے پر لا کھڑا کیا جہاں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اور بلا تفریق کارروائی ناگزیر ہو چکی تھی۔ چنانچہ، 24 دسمبر 2014 کو تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی گئی، جس کا بنیادی مقصد ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔نیشنل ایکشن پلان محض ایک عسکری حکمتِ عملی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک 20 نکاتی جامع ایجنڈا تھا جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کثیر جہتی اقدامات تجویز کیے گئے۔ اس پلان کے تحت ایک طرف ’آپریشن ضربِ عضب‘ اور ’آپریشن ردالفساد‘ جیسے کائنیٹک آپریشنز شروع کیے گئے، تو دوسری طرف دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے۔ کالعدم تنظیموں کے دوبارہ سرگرم ہونے پر پابندی لگائی گئی اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ، نظامِ عدل کو تیز کرنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اور نیشنل کانٹر ٹیررازم اتھارٹی کو فعال کیا گیا۔ ابتدائی برسوں میں اس پلان کے نمایاں نتائج سامنے آئے اور ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ تاہم جہاں فوجی اورآپریشنل نکات پر تیزی سے عملدرآمد ہوا، وہاں غیر عسکری اور طویل مدتی اصلاحات جیسے نظامِ عدل، پولیس کی کارکردگی میں بہتری اور مدارس کی رجسٹریشن میں مطلوبہ اہداف حاصل نہ کیے جا سکے۔ گزشتہ فوجی رجیم میں عمران خان اور فیض حمید نے انتہائی خطرناک اور مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان واپس لا کر بسایا یہ نیشنل ایکشن پلان کی صریحا خلاف ورزی تھی۔ سانحہ اے پی ایس کے وقت ٹی ٹی پی نے عمران خان اور جماعت اسلامی کو اپنا نمائندہ بنایا تھا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کو اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔ دوسری طرف ٹی ٹی پی بھی پی ٹی Èئی بارے ایسے ہی تاثرات رکھتی ہے ۔ آج حالات یہ ہیں کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا ڈھکے چھپے الفاظ میں ٹی ٹی پی اور افغانستان کے مقف کی حمایت میں یہ کہہ رہے ہیں کہ حالیہ دہشت گردی کا تعلق خارجہ پالیسی سے ہے۔ جناب وزیر اعلیٰ کیا پھر سے ان قاتلوں، دہشت گردوں کو چھوٹ دے دی جائے کہ یہ خیبر پختونخوا سمیت سارے پاکستان میں دندناتے پھریں۔ کیا آپ وہی دور واپس لانا چاہتے ہیں کہ شام 5 بجے کے بعد خیبر پختونخوا میں طالبان کی عملی حکومت ہو۔ کیا آپ خیبر پختونخوا میں بچیوں کے تعلیمی ادارے بند کرانا چاہتے ہیں۔ کیا افغان مہاجرین کی آڑ میں ٹی ٹی پی کو کھلی چھوٹ دیدی جائے کہ وہ صوبے کو یرغمال بنا لیں۔ اگر تو 2018 کی پالیسی کو Èپ اعلیٰ ترین کارکردگی گردانتے ہیں اور اس پالیسی کو بہترین خارجہ پالیسی سمجھتے ہیں تو پھر Èپ کو شاید ادراک ہی نہیں ہے کہ 2018 میں اس انتہا پسند سوچ نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ Èج صوبہ خیبرپختونخوا کے حالات کے ذمہ دار آپ ہیں۔ آپ کی وفاق کے خلاف پالیسی نے ٹی ٹی پی سمیت دیگر انتہا پسند سوچ کی حامل دہشت گرد تنظیموں کو تقویت دی ہے۔ آپ جز وقتی سیاسی فائدے کیلئے یہ سب کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سال میں جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے بعد دہشت گرد عناصر نے دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ Èج کے تناظر میں، دہشت گردی کے اس نئے ابھار سے نمٹنے کے لیے حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ’’عزمِ استحکام‘‘ جیسے وژن کاآغاز کیا ہے۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ صرف بندوق کے زور پر ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تمام سولین اور سماجی نکات پر سو فیصد عملدرآمد ضروری ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا کو اپنے تمام تر سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر دہشت گردی کا یہ عفریت آپ کی سیاست اور خیبر پختونخوا کے عوام کو کھا جائے گا۔ آپ سیاست ضرور کریں مگر یاد رکھیں کہ سیاست پاکستان سے بالا نہیں ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سکیورٹی کے معاملے پر ایک پیج پر ہونا چاہیے تھا، مگر عملی طور پر سیاسی محاذ آرائی ترجیح بنی رہی۔ سانحہ کوہاٹ کے فوری بعد بھی خیبر پختونخوا کی قیادت اور وفاق کے مابین تعمیری تعاون کے بجائے بیانات اور تنقید کا تبادلہ دیکھا گیا جو ناقابلِ فہم ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی اختلافات کو الگ رکھ کر خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے، نیشنل ایکشن پلان پر سو فیصد عملدآمد کو یقینی بنائے۔ فوج سے متعلقہ نکات پر عمل درآمد نہایت تیزی اور مستعدی سے ہو رہا ہے تاہم سویلین سائیڈ پر کوارڈینیشن میں نہ صرف فقدان ہے بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ دوسری طرف حکومت خیبرپختونخوا کو بھی دیکھنا ہو گا۔ انہیں بھی سیاسی اختلافات کو سکیورٹی کے معاملات سے دور رکھ کر وفاق اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں اور وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ پر مکمل روح کے ساتھ عمل کرنا چاہئے۔اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھاشاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments