دنیا اپنی ڈگر پر چلی جارہی ہے۔ نیا کچھ بھی نہیں۔ اسرائیل اندھا دھند اپنے منصوبے پر رواں دواں ہے۔ پاکستان اور اسرائیل دو نظریاتی ممالک ایک سال کے وقفے پر دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ پاکستان امتِ مسلمہ کا گل سر سبد کہلایا۔ کم از کم بانیانِ پاکستان نے یہی خواب دیکھا ، دکھایا تھا۔ اسے ’نیشن سٹیٹ‘ (قومی ریاست) کے فارمولے پر (مشترک زبان، ثقافتی بود و باش، سیاسی جغرافیائی حدود کی بنا پر) تشکیل نہیں دیا گیا تھا۔ بلکہ قدرِ مشترک صرف ایک تھی، ’اسلام‘! یہی اشتراک مختلف زبانوں ، جغرافیائی حدود اور اندازِ رہن سہن کو ایک رنگ ’صبغة اللہ‘ کا دے کر یکجا کرنے کا باعث بنا۔ پرچم ہلال کاہے قومی نشاں ہمارا ،سندھی، بلوچی، پٹھان ، پنجابی، اردو زبان کو قومی زبان قرار دے کر یک جان ہو گئے۔ حتیٰ کہ مشرقی بنگال آج پھر قائد اعظم کا شکر گزار ہو رہا ہے کہ ہمارا حشرمقبوضہ کشمیر والا نہ ہوا ، بھارت سے آزاد پاکستان کا باضابطہ حصہ بن جانے کی بنا پر ۔ اسے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک قلعہ اور ماں کی گود کا سا محافظ و شفیق بننا تھا۔ جبھی تو قائد اعظم نے فلسطین بارے نہایت واضح، مو¿ثر اور دو ٹوک رویہ اختیار کرتے اسرائیل کے نا جای¿ز، جبری مسلط کردہ وجود تسلیم کرنے سے انکار کیا۔کشمیر کو شہ رگ قرار دیا۔ انڈونیشیا کی جنگ ِآزادی میں برطانوی راج کے مسلم فوجیوں کو علیحدہ ہو کر انڈونیشی مسلمانوں کا ساتھ دینے کو کہا۔ مگر پھر قائد اعظم رخصت ہوئے اور پے در پے قوم ٹوڈی (برطانوی، امریکی. .. .)حکمرانوں کے ہاتھوں آج وطنِ عزیز ِحقیقی شناخت کھوچکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے بانی/باپ ڈیوڈ بن گوریان نے 1918ءمیں اپنا خواب اور اسرائیل کا مقصد واضح کر دیا تھا کہ اتنا چھوٹا اسرائیل ہر گز قبول نہ ہوگا۔ اسے عظیم تر (گریٹر) اسرائیل بننا ہے۔ ( ہم نے جب سے شعور سنبھالا یہی مبنی بر ظلم دعویٰ سنتے پڑھتے آئے ہیں!) مکمل فلسطین، اردن، لبنان، شام، نصف سے زائد سعودی عرب پر مشتمل ۔ مگر جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے! دنیا کو تو خبر ہے۔ صرف مسلمان حکمران اور ہمارے عوام الناس اس سے بے خبر ہیں۔ سو ابراہیمی معاہدے اسرائیل سے یا ہو چکے یا کرنے کو تُلے بیٹھے ہیں! (جواب میزائلوں کی زد میںہے!) جب کہ آج کا اسرائیلی نعرہ: ’ نیل تا فرات‘ پر دعویدار ہے۔ جس سے آج کے مصر کے کچھ حصے،( مصرپر امریکی تسلط، بذریعہ سالانہ امدادی ڈالرز!) مذکورہ عرب علاقوں کے ساتھ عراق تک تسلط کی بات ہے۔ یعنی حرم کی پاسبانی ۔۔۔ اقبال کے شعر کا ’مُثلہ‘ ہو گیا۔ نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ دریائے فرات! جس کا پہلا مصرعہ ٹرمپ نے تراشا: ایک ہوں گورے صیہون کی پاسبانی کے لیے! برطانیہ نے آتش زیر پا برطانویوں کے لیے بظاہر قاتل و غارت گر مغربی کنارے کے آباد کاروں کی درآمدات پر پابندی عائد کر دی۔ جس پر ظاہر داری کو صیہونی بلبلا اٹھے۔ مگر برطانوی سفارت کاروں نے امریکہ کو تسلی دلائی کہ یہ ہاتھی کے دکھانے کے دانت ہی ہیں۔ عملاً فرق نہیں پڑے گا! اب خلیجی صورتحال ،حوثیوں (یمن) کی اس جنگ میں دھماکہ دار شمولیت سے نیا موڑ مڑ چکی ہے۔ ہر مز پہلے ہی بیٹھے بیٹھائے ایک دن آزاد بین الاقوامی بحری گزرگاہ کی بجائے ایران کی دعویداری میں آگیا۔ ساری دنیا کی تجارت (اہم ترین تیل) دا¶ پر لگ گئی۔ 28 فروری 2026 ءسے شروع ہونے والا امریکی اسرائیلی، ایران پر حملہ کیا ہوا ، بہت کچھ مزید زیروز بر ہو گیا۔ اسرائیل، امریکہ ایران کو باہم مصروف کر کے اس کی آڑ میں خود لبنان ، شام پر گریٹر اسرائیل ایجنڈے کے تحت جت گیا۔ غزہ حملے جاری ہیں۔ایران نے فارمولا یہ طے کر لیا کہ امریکہ جب جہاں ایران پر حملہ کرے گا ،اس کا جوابی حملہ ایران امریکی سر زمین کی بجائے مشرقِ وسطیٰ میںعرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر دے گا۔ نتیجہ ؟ صرف امارات کا نقصان اس جنگ کے نتیجے میں (ایرانی حملوں سے) اربوں ڈالر ہمہ نوع تنصیبات کی تباہی سے ہوا ۔ سیاحت کی صنعت ختم ہو گئی ، یواے ای کی تجارت برباد ہو گئی۔ 80فیصد بھرے پرے ہوٹل اب صرف 10 فی صد آباد ہیں۔ سرمایہ کاری ، مارکیٹ ڈھے گئی۔ تجارتی پابندیاں ، مسائل مشکلات نے رہی سہی کسر نکال دی۔ باقی عرب ممالک پر اثرات کچھ کم نہیں۔ امریکہ کا کیا بگڑا، امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے ؟ عرب ممالک امریکی معیشت کو توانا کرتے رہے شب و روز! 2025 ءمیں سعودی عرب نے ٹرمپ سے 142 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا۔یہ دفاعی سازوسامان ، دفاعی فروخت کا سب سے بڑا پیکج قرار دیا گیا۔یہ خریداری امریکی صنعت، روزگار، امریکی قومی مفاد کی سب سے بڑی کامیابی گردانی گئی۔ اب خلیجی صورتحال میں نیا عنصر حوثیوں کا کود پڑنا ہے۔یمنی حوثی باب المندب (جو ہر مزہی کی طرح اہم ترین تنگ بحری گزرگاہ ہے) میں سعودی عرب کو دبا¶ میں لانا چاہتے تھے۔ 8 ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے کر کے 73 زخمی کیے۔ تیل کی تنصیبات پر بڑی آگ بھڑکی۔ جس کے جواب میں سعودیہ نے 50 سے زائد ہوائی حملے یمن پر کیے۔ ادھر یمن میں باب المندب والے حصے کے دو اہم جزیروں پر حوثیوں نے قبضہ کر لیا۔ جس سے پورا مغربی یمنی ساحل، اور بحر احمر کا جنوبی راستہ، سویز کنال سب حوثی کنٹرول میں آگیا۔ ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ بین الاقوامی بحری جہاز آزادانہ گزر سکتے ہیں ما سوا سعودی عرب کے۔ باب المندب کے افریقی ساحل پر اسرائیل بھی گہری نظر لگائے بیٹھا ہے۔ایران سے مشیر برائے آیت اللہ مجتبیٰ نے اسے ’بلند آہنگ کامیابی‘ قرار دیا۔ یہ بھی کہا کہ حوثی ہمارے اتحادی ہیں۔ یہ رپورٹ بھی رہی کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب حوثیوں کی رہنمائی اور مدد کر رہے تھے۔ تاہم ایرانی سرکاری موقف ہے کہ حوثی اپنے فیصلوں میں خودمختار ہیں۔ امریکہ اس وقت چپکا تماشائی بنا ہے۔ سعودیہ نے ٹرمپ سے حوثیوں پرفضائی حملے کی درخواست کی ، مگر سعودی خریداریوں سے امریکی معیشت مضبوط کرنے والے طوطا چشم نے صاف انکار کر دیا۔ یہ وہی امریکہ ہے جس نے 2002 ءسے 2025 ءتک یمن پر ڈرون حملوں سے اسے ادھیڑ ڈالا۔ بات واضح ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ ممالک کی صرف دولت سے کھیلنا چاہتا ہے۔ اپنے پرانے گاہکوں کے تحفظ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ امریکہ حوثیوں سے الجھنا نہیں چاہتا۔ مسلم ممالک کی آنکھیں اب بھی نہ کھلیں گی ؟ قطر سے ایک ارب ڈالرکاطیارہ ، سبھی عربوں کی فراخدلانہ مہمان نوازی کے باوجودامریکہ کی حیا ، مروت لحاظ کی آنکھ بھینگی ہی رہی! اب پلٹ کر دیکھیے تو اسرائیل امریکہ کے ایران پر حملے سے نقصانات کے باوجود اسے خطے میں ایک نیا مقام ، نئی قوت حاصل ہو گئی۔ ہر مز جیسی اہم اور نازک تجارتی آبی شاہراہ ، اور اب باب المندب پر حوثیوں کا قبضہ! سعودی عرب پر حوثی حملے جاری ہیں۔ کنگ فہد بیس پر فائٹر جیٹ شیلٹر تباہ ، آرامکو کی مختلف کمپنیوں پر حملے سے اٹھتا گاڑھا دھواں۔ جنوبی سعودی عرب میں شرورہ بیس اسلحہ ڈپو اور کمانڈ کنٹرول سینٹر پر بلیسٹک میزائیلوں کی بوچھاڑ۔ قبل ازاں سعودی آئل پائپ لائن جو باب المندب بند ہو نے پر متبادل ترسیل کے لیے بنی تھی ، اس پر بھی سخت حوثی حملہ ہوا، جس سے تیل کی سپلائی معطل ہو گئی ۔ اس سب پر بھی ا مریکہ نے سعودیوں سے منہ موڑ لیا! مسلم دنیا امریکہ کی دوستی کے کما حقہ 3⁄4 سبھی ذائقے چکھ چکی۔ مسلم ممالک اپنے تحفظ کا انتظام خود کریں۔ وسیع تر سلامتی کیونکر یقینی بنے ؟ ایران کا تنہا بڑی مسلم طاقت بن کرکھڑا ہونا کیونکر علاقائی بقائے باہمی میں فٹ ہوگا۔ تمام مسلم ممالک کو احتیاط اور توازن سے باہمی الجھا¶ سے بچتے ہوئے اپنے تشخص، سلامتی اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی گھمبیرتاکے بیچ 11ستمبر (9/11) بھی ہو گزرا۔ امریکہ پر حملے کے نتیجے میں 3 ہزار کا مارا جانا تو قیامت برپاہو گئی! صرف دو تجارتی ، معاشی عمارات کا گرنا جرمِ عظیم قرار پایا! جس پر 25 سال سے قیدی گوانتامو کی بدنامِ کل عالم جیل میں ثبوت طلب ملزم بدترین ٹارچر اور قید و بند سے دو چار ہیں۔ جبکہ طے شدہ نسل کشی (Genocide) کا جنگی مجرم نیتن یاہو غزہ کی تباہی پر بدستورجاری و ساری ہے بلا گرفت! خود اسرائیلی شہری فلسطینیوں پربدترین مظالم کی فلم بنا کر ثبوت پیش کر کے آسکر ایوارڈ لے چکے۔ لرزہ خیز جرائم پر ریکارڈ توڑ خراجِ تحسین گوری(آرٹ فلم کی) دنیا نے دیا۔ مگر کفر کو زک پہنچانے والوں کا نام لینا بھی 2 ارب مسلم آبادی کے لیے جرمِ عظیم ہے، آج بھی! ۔



