یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے ریاض کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے بیان میں کہا کہ حوثی فورسز نے سعودی عرب کے خلاف 2 فوجی کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز استعمال کیے گئے۔ یحییٰ سریع کا کہنا تھا کہ پہلی کارروائی میں سعودی دارالحکومت ریاض کے حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ حوثی ترجمان نے ان کارروائیوں کو یمن کے دارالحکومت صنعاء پر سعودی حملوں کا ردعمل قرار دیا۔ حملوں کے دوران ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کے بڑے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق دھوئیں کے مناظر کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی ہوئی ہے، جبکہ ایئرپورٹ کے قریب ایندھن ذخیرہ کرنے کے علاقے میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب فائر کیا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل روک کر فضا میں تباہ کردیا۔ ان کے مطابق میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا اور اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ترکی المالکی نے مزید کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ ریاض میں حملے کے بعد فضائی الرٹ جاری کیا گیا اور شہریوں میں تشویش پھیل گئی۔ یہ موجودہ کشیدگی کے دوران ریاض میں پہلا بڑا فضائی الرٹ قرار دیا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حوثیوں کی جانب سے ریاض اور ینبع کو بیک وقت نشانہ بنانے کا دعویٰ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حوثیوں کے بتائے گئے اہداف اور نقصان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔



