امریکا اور ایران کے مابین جاری جنگ کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے نے امریکا اور چین کے درمیان جنگ کے خدشات پیدا کردیے تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، اے آئی سے بنی ایک غلط انٹیلی جنس رپورٹ کی وجہ سے امریکا اور چین کی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، رواں سال کی شروعات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی فوج میں گردش کرنے والی ایک انٹیلی جنس رپورٹ نے شدید تشویش پیدا کر دی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ایک چینی بحری جہاز ایٹمی ہتھیاروں کے پرزے منتقل کر رہا ہے۔ اس رپورٹ کے ملتے ہی امریکی فوج فوری طور پر متحرک ہو گئی اور اس جہاز کو راستے میں ہی روکنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی۔ سی این این کی رپورٹ میں ذرائق کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی مسلح افواج کے اہلکار جہاز پر سوار ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے اور فضا میں ملٹری طیارے بھی بھیج دیے گئے تھے۔ تاہم مجوزہ آپریشن سے بالکل پہلے جب حکام نے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے ایک تجزیہ کار کی تیار کردہ رپورٹ کی گہرائی سے تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ یہ رپورٹ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی تھی اور چیٹ بوٹ نے جہاز میں موجود سامان کی غلط نشاندہی کی تھی۔ اس واقعے سے واقف ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ یہ رپورٹ مکمل طور پر جھوٹی تھی، لیکن اس نے دونوں ممالک کو تقریباً جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، کیونکہ کسی بھی چینی جہاز کے خلاف امریکی کارروائی سے دونوں طاقتوں کے درمیان مسلح تصادم کا شدید خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، اہداف کا انتخاب کرنے اور دیگر دفاعی امور کو جلد نمٹایا جا سکے۔ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے رواں سال جنوری میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے اپنے ادارے کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکسلریشن اسٹریٹجی جاری کی۔ اس حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیٹ نے کہا تھا کہ ہم تجربات کو آزاد کریں گے، بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کریں گے، اپنے سرمائے کی درست سمت کا تعین کریں گے اور اس عمل کو یقینی بنائیں گے تاکہ ہم ملٹری اے آئی کے شعبے میں قیادت برقرار رکھ سکیں۔ اس پیش رفت کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی مشترکہ معیار اور جانچ کے اے آئی کا ملٹری ٹارگٹنگ میں استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سی این این کے مطابق، ایک سابق سینئر امریکی اہلکار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اندرونی ٹولز زیادہ تر تجارتی سافٹ ویئرز کی ہی خوبصورت نقل ہیں۔ معاملے سے واقف ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ ٹارگٹنگ میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس بات کی کوئی واضح رہنمائی موجود نہیں ہے کہ کسی انسان کی موجودگی سویلین ہلاکتوں یا اپنوں پر حملوں کو کیسے روکے گی۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کے غلط نتائج پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا تباہ کن فیصلے کروا سکتا ہے۔



