برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے اے آئی کے شعبے سے وابستہ عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ طاقتور ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو اس کے انتہائی سنگین اور وجودی خطرات سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس پر مؤثر حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں، اور یہ کام بہت دیر ہونے سے پہلے کیا جانا چاہیے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بادشاہ چارلس نے یہ بات اسکاٹ لینڈ میں اپنی ڈمفریز ہاؤس اسٹیٹ میں اے آئی اور ٹیکنالوجی کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ اجلاس میں اینویڈیا کے شریک بانی اور سربراہ جینسن ہوانگ، گوگل ڈیپ مائنڈ کے بانی اور چیئرمین ڈیمنس ہسابس، اوپن اے آئی کی چیف فنانشل آفیسر سارہ فریئر اور اینتھروپک کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر ٹینو کوئلار سمیت دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔ چارلس نے کہا کہ اے آئی میں انسانی زندگی بہتر بنانے اور خاص طور پر طب اور حیاتیاتی علوم کے شعبے میں جانیں بچانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، ان کے مطابق خود اے آئی تیار کرنے والے ماہرین بھی اس ٹیکنالوجی کی ممکنہ خطرناک صلاحیتوں کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں، جن میں انتہائی سنگین صورت حال میں انسانی جان کو نقصان پہنچانے کا امکان بھی شامل ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ اس بات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی غلط افراد یا گروہوں کے ہاتھ میں نہ پہنچے اور اسے تباہ کن مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کو اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک خطرات بہت زیادہ بڑھ جائیں، یا اس سے پہلے ہی اے آئی پر مناسب کنٹرول اور حفاظتی نظام قائم کیے جائیں۔ (شاہ چارلس کی ڈمفریز ہاؤس میں اے آئی شعبے کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران خطاب) یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کی نگرانی کے طریقہ کار پر بحث جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہ سوال بھی نمایاں رہا ہے کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں خود اپنے لیے حفاظتی اصول وضع کر سکتی ہیں یا حکومتوں کو زیادہ واضح اور سخت قوانین بنانے چاہییں۔ اے آئی کی سلامتی سے متعلق خدشات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب اینتھروپک کے دو محققین نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت مستقبل قریب میں انسانیت کے لیے انتہائی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسی دوران بعض اے آئی کمپنیوں نے ایسے واقعات کی بھی اطلاع دی ہے جن میں ان کے ماڈلز نے تجرباتی ماحول میں مقررہ پابندیوں سے آگے بڑھنے اور بیرونی کمپیوٹر نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے بھی اجلاس کے موقع پر اے آئی کی ذمہ دارانہ ترقی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات عوام کے سامنے لانے سے پہلے یہ یقینی بنانے کے لیے زیادہ سخت جانچ کرنی چاہیے کہ وہ محفوظ اور تیار ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی نظام ابھی تیار نہیں تو اسے روک دینا چاہیے۔ ہوانگ نے کہا کہ اے آئی کی ترقی تیزی سے ہونی چاہیے، لیکن اتنی تیزی سے نہیں کہ اس کی حفاظت اور تیاری متاثر ہونے لگے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کو ذمہ داری کے ساتھ تیار کریں۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی بھی اے آئی کی ترقی کی رفتار کو کچھ حد تک کم کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ ان کے مؤقف کے بعد عالمی سطح پر یہ بحث شروع ہوئی کہ اے آئی کی رفتار محدود کرنے کی تجاویز کے پیچھے صرف حفاظتی خدشات ہیں یا اس کے ساتھ کاروباری اور حکومتی مفادات بھی وابستہ ہو سکتے ہیں۔ ان مختلف دعوؤں اور خدشات پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں بحث جاری ہے۔ برطانیہ کے وزیر برائے اے آئی کنشکا نارائن نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ کمپنیاں اے آئی ایسی سمت میں تیار کرنے کی ذمہ داری کیسے پوری کر سکتی ہیں جس سے عام لوگوں کے مفادات محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ایک مرتبہ کا اجلاس نہیں بلکہ ان متعدد بات چیت کا حصہ ہے جن کے ذریعے برطانیہ ذمہ دارانہ اے آئی کی ترقی میں اپنا کردار طے کرنا چاہتا ہے۔ نارائن کے مطابق برطانیہ کے پاس اے آئی کے نظاموں کی جانچ، ان کے خطرات کو سمجھنے اور ان خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جینسن ہوانگ نے بتایا کہ بادشاہ چارلس نے ان سے پہلی ملاقات کے دوران بھی اے آئی کی سلامتی کا موضوع اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق چارلس ان اولین شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اے آئی کی ترقی کے ساتھ ذمہ داری اور احتیاط کو جوڑنے پر زور دیا۔
مصنوعی ذہانت کے خطرات پر پرنس چارلس بھی بول پڑے
RELATED ARTICLES



