کئی سالوں سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی اور پاکستانی ٹی وی مواد پر مختلف اوقات میں پابندیوں کے باوجود پاکستانی ڈرامے آج بھی انڈین ناظرین میں کافی مقبول ہیں۔ دہلی کے متوسط طبقے کے گھروں سے لے کر یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ڈرامے دیکھنے والے نوجوانوں تک پاکستانی ڈرامے خاموشی سے ایک ایسی سرحد پار کر رہے ہیں، جسے سیاست اکثر مشکل بنا دیتی ہے۔ ان ڈراموں کو دیکھنے والوں میں کسی ایک عمر، جنس یا مذہبی برادری کے لوگ شامل نہیں ہیں۔ نوجوان، والدین اور بزرگ اکثر انہیں اپنے خاندان کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ بہت سے ناظرین کے لیے پاکستانی ڈراموں کی کشش پاکستان نہیں بلکہ ان کی کہانی، کردار، زبان اور ثقافت ہے۔ ان میں دکھائی جانے والی بہت سی چیزیں انہیں اپنی روزمرہ زندگی کے قریب محسوس ہوتی ہیں۔ دہلی کی طالبہ ندا سلطان کے لیے پاکستانی ڈراموں سے واقفیت اپنی والدہ کے ذریعے ہوئی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ کہتی ہیں: ’میری والدہ گھر میں پاکستانی ڈرامے دیکھتی تھیں۔ انہیں دیکھتے دیکھتے میری بھی دلچسپی پیدا ہوگئی۔ شروع میں میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں یہ ڈرامے دیکھوں گی، لیکن آہستہ آہستہ مجھے ان کی عادت ہوگئی۔‘ ندا کے پسندیدہ ڈراموں میں ’زندگی گلزار ہے‘، ’میرے پاس تم ہو‘ اور ’پری زاد‘ شامل ہیں۔ وہ اکثر اپنے خاندان کے ساتھ یہ ڈرامے دیکھتی ہیں اور ان کی سادہ اور حقیقت کے قریب کہانیوں کو پسند کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’پاکستانی ٹیلی ویژن نے بہت سے بہترین ڈرامے بنائے ہیں۔ ان کی کہانیاں مضبوط ہوتی ہیں، کردار اچھے ہوتے ہیں اور جذبات حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔ زندگی گلزار ہے، میرے پاس تم ہو اور پری زاد میرے پسندیدہ ڈراموں میں شامل ہیں، اور ہم انہیں خاندان کے ساتھ دیکھتے ہیں۔‘ ندا کے مطابق پاکستانی ڈراموں کی ایک خاص بات ان کی شائستگی بھی ہے۔ ان کے خیال میں بہت سے ڈراموں میں غیر ضروری فحاشی کے بجائے خاندان، رشتوں اور سماجی مسائل پر توجہ دی جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’ان ڈراموں میں رشتوں، خاندان، خواتین، سماجی مسائل اور روزمرہ کی مشکلات کو دکھایا جاتا ہے۔ بہت سے ڈراموں میں ایک سماجی پیغام بھی ہوتا ہے، اسی لیے لوگ ان سے خود کو جوڑ پاتے ہیں۔‘ ان ڈراموں کو دیکھنے والوں میں کسی ایک عمر، جنس یا مذہبی برادری کے لوگ شامل نہیں ہیں (سہیل بھٹ/ انڈپینڈنٹ اردو) یہ مقبولیت صرف کسی ایک مذہب یا کمیونٹی تک محدود نہیں ہے۔ دہلی کی رہنے والی رینا کہتی ہیں کہ وہ پاکستانی ڈرامے اس لیے دیکھتی ہیں کیونکہ انہیں ان کی فنکارانہ خوبیاں پسند ہیں۔ بقول رینا: ’فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہم پاکستانی ڈرامے ان کی کہانی، فیشن، اچھی تحریر اور کرداروں کو دیکھنے کے لیے دیکھتے ہیں۔‘ ان کے لیے اردو زبان بھی پاکستانی ڈراموں کی ایک بڑی کشش ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’اردو بہت میٹھی زبان ہے۔ ہم ان ڈراموں سے نئے الفاظ اور جملے بھی سیکھتے ہیں۔ اداکار جس خوبصورتی سے اردو بولتے ہیں، وہ بھی ڈراموں کو خاص بناتی ہے۔‘ پاکستانی ڈراموں کی یہ مقبولیت ایک دلچسپ صورت حال کو ظاہر کرتی ہے۔ انڈیا اور پاکستان سیاسی طور پر ایک دوسرے سے دور ہو سکتے ہیں، لیکن دونوں ملکوں کی مشترکہ ثقافت اور زبان آج بھی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ رینا کہتی ہیں: ’ہمارے لیے یہ سب سے پہلے فن ہے۔ ہم ڈرامہ دیکھتے وقت دونوں ملکوں کی سیاست کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ایک اچھی کہانی کہیں بھی لوگوں کے دل تک پہنچ سکتی ہے۔‘ انڈیا کے ان گھروں میں جہاں پاکستانی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں، ٹی وی اور موبائل کی سکرین ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے جہاں سرحدوں سے زیادہ اہم جذبات، زبان اور کہانی بن جاتے ہیں۔ ندا کہتی ہیں: ’سیاست ملکوں کے درمیان سرحدیں بنا سکتی ہے، لیکن فن کو ان سرحدوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔‘ ڈراما ڈراما انڈسٹری انڈیا پاکستانی ڈرامے خاموشی سے ایک ایسی سرحد پار کر رہے ہیں، جسے سیاست اکثر مشکل بنا دیتی ہے۔ سہیل بھٹ جمعرات, ستمبر 17, 2026 – 07: 15 Main image:
ان ڈراموں کو دیکھنے والوں میں کسی ایک عمر، جنس یا مذہبی برادری کے لوگ شامل نہیں ہیں (سہیل بھٹ/ انڈپینڈنٹ اردو)
ٹی وی jw id: gG8jUg1g type: video related nodes: پاکستانی ڈرامے شان دار، مگر فلمیں غیراطمینان بخش کیوں؟ انڈیا نے پاکستانی ڈراموں اور گانوں کی سٹریمنگ پر بھی پابندی لگا دی کیا پاکستانی ڈرامے ساس بہو کے جھگڑوں سے آگے نکل آئے؟ پاکستانی ڈراموں کی کہانی گھر میں بند تھی، اسے باہر نکالا: عمران رضا SEO Title: انڈین ناظرین پاکستانی ڈرامے دیکھنا کیوں نہیں چھوڑتے؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage



