74.1 F
Pakistan
Thursday, September 17, 2026
HomeBusinessپیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات بے نتیجہ ختم

پیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات بے نتیجہ ختم

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے پر مذاکرات کا چوتھا دور بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے۔ بدھ کو حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا چوتھا دور پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوا، حکومتی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیراحسن اقبال نے کی۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور بھی پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حتمی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے 20 ستمبر کا اسلام آباد مارچ برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹھوس تجویز نہ آئی تو احتجاجی تحریک جاری رہے گی، حکومتی وفد کو ساری تجاویز تفصیل کے ساتھ پیش کی ہیں،حکومت نے کل تک کا وقت مانگا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام تجاویز حکومت کے سامنے دلائل کے ساتھ پیش کردی ہیں، حکومتی وفد نے تسلیم کیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے سے متعلق کسی بھی اقدام سے پہلے جماعت اسلامی سے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ اس نے عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کیا ہے، ہمارے دباؤ کے نتیجے میں اگر عوام کو ریلیف ملتا ہے تو ہمیں خوشی ہوگی، تاہم موجودہ طریقہ کار سے عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو کسی ریلیف کا کریڈٹ لینے کا کوئی شوق نہیں، ہمارا مقصد صرف عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی کے مطابق حکومت کی خصوصی ریلیف اسکیم میں ڈیزل پر انحصار کرنے والے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس لیے اس طریقے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل سکے گا۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ امیر جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کے حل کے لیے عوام کو متحرک کیا ہے اور احتجاج پرامن، آئینی اور جمہوری طریقہ ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج ملک بھر میں جاری ہے اور 45 مقامات پر دھرنے دیے جارہے ہیں۔ اسی احتجاج کی بنیاد پر حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بھی جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کیے تھے۔ ابتدا میں حکومت نے آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا تاہم جب جماعت اسلامی نے دلائل پیش کیے تو حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی گزشتہ روز تسلیم کیا تھا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کی بات درست تھی۔ مذاکرات کا آغاز کیسے ہوا؟ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز اس وقت ہوا، جب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے خلاف احتجاج اور دھرنے شروع کیے۔ یکم ستمبر کو وفاقی حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی سے بات چیت کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی جب کہ جماعت اسلامی نے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں اپنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی۔ 7 ستمبر کو مذاکرات کا پہلا دور وزارت منصوبہ بندی میں ہوا، حکومتی وفد کی قیادت احسن اقبال نے کی جب کہ جماعت اسلامی کے وفد کی سربراہی لیاقت بلوچ نے کی۔ پہلے دور میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کے سامنے 6 تجاویز پیش کیں۔ لیاقت بلوچ نے مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ عوام کو ریلیف دینا ہے، ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی میں کمی یا خاتمہ کیا جائے اور حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی کرے۔ دوسری جانب احسن اقبال نے کہا تھا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز وصول کرلی ہیں اور متعلقہ اداروں سے رائے لینے کے بعد ان پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں حکومت کو مجبوریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ دوسرے دور میں کیا ہوا؟ 10 ستمبر کو حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، یہ اجلاس پنجاب ہاؤس میں ہوا، جس میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے سے متعلق تجاویز پر بات چیت کی گئی۔ دوسرے دور میں حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز پر غور کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال نہ دینے کی درخواست بھی کی تھی۔ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور لیوی کے خاتمے کے لیے اس نے حکومت کے سامنے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق مذاکرات کے باوجود اس کا احتجاج جاری رہے گا۔ مذاکرات کا تیسرا دور اس کے بعد گزشتہ روز 15 ستمبر کو اسلام آباد میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تیسرا دور ہوا، جس میں کوئی حتمی پیش رفت یا معاہدہ نہیں ہوسکا۔ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی مکمل ختم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے وزیراعظم کی 100 روپے فی لیٹر پٹرول ریلیف اسکیم مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عارضی ریلیف لیوی کے خاتمے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ حکومت نے بتایا کہ 54 آئی پی پیز سے متعلق معاملات طے ہوچکے ہیں جب کہ مزید 36 آئی پی پیز سے مذاکرات جاری ہیں۔ حکومتی بریفنگ کے مطابق آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں تقریباً 4, 600 ارب روپے کی بچت متوقع/حاصل ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ اس بچت کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں دیا گیا جب کہ جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم ہونے تک اس کی احتجاجی مہم جاری رہے گی اور 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان واپس نہیں لیا جائے گا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments