67.1 F
Pakistan
Thursday, September 17, 2026
HomeBreaking Newsایک سے دوسرا بحران: آخر کب تک؟

ایک سے دوسرا بحران: آخر کب تک؟

کسی بھی معاشرے کے لیے بحران کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے قوموں نے جنگیں بھی دیکھی ہیں، قحط بھی، معاشی کساد بازاری بھی، سیاسی انتشار بھی اور قدرتی آفات بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ قومیں بحران کو ایک عارضی آزمائش سمجھ کر اس سے نکلنے کی منصوبہ بندی کرتی ہیں جبکہ کچھ معاشرے رفتہ رفتہ بحران کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیتے ہیں۔ شاید ہمارا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم بحرانوں سے نکلنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا سیکھتے جا رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم بحرانوں کے عادی کیوں ہو گئے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف حکومتوں کی کارکردگی میں تلاش کرنا شاید کافی نہیں۔ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ ہمارے ہاں بحران کو حل کرنے کے بجائے اسے سنبھالنے کی روایت مضبوط ہو چکی ہے۔ بحران ختم کرنے کےلئے مستقل اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بحران کو وقتی طور پر سنبھالنے کےلئے ایک پریس کانفرنس، ایک پیکیج، ایک نوٹیفکیشن یا چند اعلانات کافی سمجھے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے صرف اس کی شدت کچھ عرصے کےلئے کم ہو جاتی ہے۔ ہم مہنگائی کو بھی کچھ اسی طرح قبول کر چکے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ کسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی عوامی تشویش کا باعث بنتا تھا۔ آج قیمتیں بڑھتی ہیں تو لوگ چند دن بحث کرتے ہیں اور پھر نئی قیمت کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو کرایے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں، کاروباری لاگت بڑھتی ہے، گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد معاشرہ نئی قیمتوں کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بحرانوں کے اس تسلسل میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار کیا ہے۔ آج ایک بحران پیدا ہوتا ہے تو چند گھنٹوں میں پورا ملک اس پر گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔ اگلے دن کوئی دوسرا واقعہ سامنے آتا ہے اور پہلی خبر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ عوام کی توجہ بھی تیزی سے ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ یوں بحران خبر تو بنتا ہے، مگر مسئلہ حل کرنے کی اجتماعی کوشش نہیں بن پاتا۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری شاید یہی ہے کہ ہم ہر بحران پر ردعمل تو دیتے ہیں لیکن بحرانوں کی بنیادی وجوہات پر مستقل کام نہیں کرتے۔ سیلاب آئے تو امدادی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں لیکن نکاسی آب، منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تبدیلی کے طویل المدتی اثرات پر توجہ محدود رہتی ہے۔ بجلی کا بحران آئے تو عارضی اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن توانائی کے نظام کی بنیادی اصلاحات کا معاملہ پھر فائلوں میں چلا جاتا ہے۔ بے روزگاری بڑھے تو روزگار کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر تعلیم، ہنر اور صنعت کے درمیان تعلق مضبوط بنانے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ طرزِ حکمرانی ہمیں بحرانوں سے نجات نہیں دیتاصرف اگلے بحران تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن ساری ذمہ داری حکومتوں پر ڈال دینا بھی آسان راستہ ہے۔ بحیثیت معاشرہ ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔ ہم اکثر قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی، ٹریفک نظم، پانی اور بجلی کے ذمہ دارانہ استعمال جیسے معاملات کو ریاست کی ذمہ داری سمجھتے ہیں جبکہ شہری ذمہ داری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ایک مضبوط ریاست صرف اچھی حکومت سے نہیں بنتی اسے ذمہ دار شہری بھی درکار ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان میں بحران کیوں آتے ہیں۔ بحران ہر ملک میں آتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک بحران کے بعد ہم نے کیا سیکھا؟ کیا ہم نے اپنی پالیسی بدلی؟ کیا اداروں کو بہتر کیا؟ کیا قانون سازی میں اصلاح کی؟ کیا آنے والے بحران کی روک تھام کی کوئی سنجیدہ کوشش کی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم بحرانوں کو حل نہیں کر رہے صرف ایک بحران سے دوسرے بحران تک سفر کر رہے ہیں۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں قومی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ سیاسی حکومتیں بدل سکتی ہیں لیکن معیشت، تعلیم، توانائی، صحت، پانی، زراعت اور روزگار سے متعلق بنیادی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہیے۔ ہر نئی حکومت اگر ہر چیز کو ازسرنو شروع کرے گی تو ملک کبھی استحکام کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر مسئلے کا حل سیاسی نعرہ نہیں ہوتا۔ کچھ مسائل کے حل کیلئے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، کچھ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات اور کچھ کے لیے عوام کے رویوں میں تبدیلی۔ پاکستان کو آج شاید کسی ایک شعبے میں انقلاب سے زیادہ مسلسل اور سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمیں بحرانوں کا تماشائی بننے کے بجائے ان کے اسباب تلاش کرنا ہوں گے۔ ہمیں ہر نئی مشکل پر چند دن افسوس کرنے کے بجائے یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ یہ مسئلہ پیدا کیوں ہوا اور آئندہ اسے دوبارہ پیدا ہونے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ قومیں مشکلات سے نہیں ٹوٹتیں بلکہ مشکلات سے سبق نہ سیکھنے سے کمزور ہوتی ہیں۔ ہم بحرانوں کے عادی ہو چکے ہیں لیکن ابھی دیر نہیں ہوئی۔ عادت بدلی جا سکتی ہے۔ اگر ہم نے مسائل کو قسمت سمجھنے کے بجائے ذمہ داری سمجھ لیا، وقتی ردعمل کے بجائے مستقل حل تلاش کرنا شروع کر دیا اور سیاسی اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے میں بدل دیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد کریں جو بحرانوں میں گھرا ضرور تھا مگر بحرانوں کا عادی نہیں ہوا تھا۔ بحران کا عادی ہو جانا کسی بھی زندہ قوم کےلئے ایک خاموش زہر کی مانند ہے۔ جب تک ہم بحرانوں کو اپنی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کرتے رہیں گے یہ بحران ہمیں اسی طرح نوچتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ”عادی“ہونے کے اس خول کو توڑیں اور یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیں کہ ہماری تقدیر میں صرف سسکنا لکھا ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments