وزن کم کرنا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے آسان کام نہیں ہے لیکن یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ عورتوں کے لیے وزن اور چربی کم کرنا مردوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر جسم میں مسلز کی مقدار، ہارمونز میں تبدیلی، کھانے کی خواہش اور جسم میں چربی جمع ہونے کا انداز وزن کم کرنے کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔ فٹنس ٹرینر اور نیوٹریشنسٹ دینا فہیم نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں خواتین اور مردوں کے وزن کم کرنے کے عمل میں فرق پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی قسم کی غذا دونوں کے لیے یکساں نتائج نہیں دیتی۔ دینا فہیم کا کہنا ہے کہ جب ایک مرد کاربوہائیڈریٹ یعنی روٹی یا چاول جیسی چیزیں کم کرتا ہے تو اس کا جسم تیزی سے چربی گھلاتا ہے، لیکن جب عورت کاربوہائیڈریٹس کم کرتی ہے تو اس کا جسم مزاحمت کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ ایک ہی طرح کی غذا استعمال کرنے کے باوجود مرد خواتین کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ وزن کم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب مرد وزن کم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا ٹیسٹاسٹیرون ہارمون ذخیرہ شدہ چربی کو توانائی میں بدل دیتا ہے، جس سے وزن کم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب عورت کھانا کم کرتی ہے تو اس کا جسم اسے خطرہ یا فاقہ سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے جسم چربی کو سنبھال کر رکھتا ہے، مسلز کو جلاتا ہے اور میٹابولزم کو سست کر دیتا ہے۔ View this post on Instagram یہی وجہ ہے کہ سب کچھ صحیح کرنے کے باوجود خواتین کا وزن کم نہیں ہوتا کیونکہ وزن کم کرنے کے طریقے عام طور پر مردوں کے حساب سے بنائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عورتوں کے جسم کا اندرونی نظام مردوں سے مختلف ہوتا ہے۔ عورتوں میں قدرتی طور پر پٹھے یا مسلز مردوں کی نسبت کم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا جسم آرام کی حالت میں بھی کم کیلوریز جلاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں ہارمونز کا نظام بھی مختلف ہوتا ہے۔ مردوں میں ٹیسٹاسٹیرون ہارمون زیادہ ہوتا ہے جو مسلز بنانے اور چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ خواتین میں ایسٹروجن اور پروجسترون ہارمون زیادہ ہوتے ہیں جو چربی کو جسم کے مخصوص حصوں جیسے کہ کولہوں، رانوں اور پیٹ کے نچلے حصے میں ذخیرہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ چربی مردوں کے پیٹ کی چربی کے مقابلے میں بہت ضدی ہوتی ہے اور جلدی ختم نہیں ہوتی۔ خواتین کو ماہواری، حمل اور مینوپاز کے دوران ہارمونز کی تبدیلیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کو شدید بھوک لگتی ہے، جسم میں پانی جمع ہوجاتا ہے اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پریشانی اور ذہنی دباؤ کی حالت میں خواتین کے جسم میں کورٹیسول ہارمون بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جذباتی ہو کر میٹھی اور کاربوہائیڈریٹ والی چیزیں زیادہ کھانے لگتی ہیں۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ماہرین کچھ آسان مشورے دیتے ہیں۔ دینا فہیم کا کہنا ہے کہ خواتین کو اپنے ہر کھانے میں روٹی، پروٹین اور صحت بخش چکنائی کا مناسب تناسب رکھنا چاہیے اور بہت زیادہ سخت ڈائٹنگ کرنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ کیلوریز کم کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ روزمرہ کے کاموں میں وزن اٹھانا یا طاقت بڑھانے والی ورزشیں شامل کرنی چاہئیں تاکہ مسلز مضبوط ہوں۔ غذا میں پروٹین کا استعمال زیادہ رکھنا چاہیے تاکہ کمزوری نہ ہو، پوری اور اچھی نیند لینی چاہیے اور ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وزن کم کرنے کا یہ سفر آسان ہو سکے۔



