70.9 F
Pakistan
Tuesday, September 15, 2026
HomeTechnologyامریکا کے خلا میں تعینات خفیہ ہتھیاروں کا راز فاش

امریکا کے خلا میں تعینات خفیہ ہتھیاروں کا راز فاش

امریکا نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں ایسے ہتھیار نصب کیے ہیں جنہیں ’’اسپیس کنٹرول ویپنز‘‘ یعنی خلائی کنٹرول کے ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف امریکی محکمہ فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے کیا، تاہم ہتھیاروں کی نوعیت، تعداد، صلاحیت اور انہیں خلا میں کب بھیجا گیا، اس بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ امریکی محکمہ فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے ایئر اینڈ اسپیس فورسز ایسوسی ایشن کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خلا میں بدلتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی خلائی صلاحیتوں کو قابلِ اعتماد اور محفوظ رکھے تاکہ مخالف ممالک کی جانب سے کسی ممکنہ کارروائی کا جواب دیا جا سکے۔ تاہم امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ مدار میں موجود یہ ہتھیار کس طرح کام کرتے ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کوئی نظام براہ راست کسی دوسرے سیٹلائٹ کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ خلائی نظام کو جام، متاثر یا ناکارہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ امریکی حکام نے صرف انہیں اسپیس کنٹرول ویپنز قرار دیا ہے۔ امریکی اسپیس فورس کے مطابق اسپیس کنٹرول کا مقصد خلا میں کسی مخالف کی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔ اس کے لیے ایسے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں جو کسی نظام کو متاثر، کمزور یا ضرورت پڑنے پر تباہ بھی کر سکیں۔ اسپیس فورس کا کہنا ہے کہ یہ صلاحیتیں دفاعی اور جارحانہ دونوں مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کا کہنا ہے کہ خلا اب صرف مواصلات یا سائنسی تحقیق کا میدان نہیں رہا بلکہ فوجی اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ دنیا بھر کی افواج سیٹلائٹس پر انحصار کرتی ہیں، جو فوجی رابطوں، نگرانی، جاسوسی، نیوی گیشن اور دیگر اہم نظاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اگر کسی ملک کے سیٹلائٹس کو متاثر کیا جائے تو اس کی فوجی صلاحیتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن، روس اور چین کے درمیان خلا میں فوجی صلاحیت بڑھانے کی دوڑ تیز ہو رہی ہے۔ امریکی حکام پہلے ہی خبردار کرتے رہے ہیں کہ روس اور چین ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں جو امریکی سیٹلائٹس کو جام کرنے، ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ امریکی اسپیس فورس کے مطابق چین اپنی فوجی جدید کاری کے حصے کے طور پر خلائی اور کاؤنٹر اسپیس صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، جبکہ روس بھی خلا کو ممکنہ جنگی میدان کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی پس منظر میں امریکا نے بھی اپنی خلائی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ امریکا نے 2019 میں اسپیس فورس قائم کی تھی، جو سات دہائیوں سے زائد عرصے میں امریکی فوج کی پہلی نئی شاخ تھی۔ اس فورس کا بنیادی مقصد خلا میں امریکی مفادات اور فوجی نظاموں کا تحفظ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی خلا میں موجود امریکی صلاحیتوں کو اپنی مجوزہ گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ امریکی حکومت نے اسپیس فورس کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ خلا میں موجود امریکی اثاثوں کے دفاع اور ضرورت پڑنے پر جارحانہ صلاحیتوں کے استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ خلا میں ہتھیاروں کی موجودگی کے حوالے سے عالمی سطح پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے۔ 1967 کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے پر پابندی ہے، تاہم روایتی ہتھیاروں یا ایسے اینٹی سیٹلائٹ نظاموں پر مکمل پابندی نہیں ہے جو کسی سیٹلائٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکا روس پر ایسے سیٹلائٹس رکھنے کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے جو دوسرے خلائی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ روسی خلائی نظاموں کی جانب سے یورپی سیٹلائٹس کی مواصلات میں مداخلت کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ تازہ امریکی اعتراف سے واضح ہوتا ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اب زمین، سمندر اور فضا کے ساتھ خلا تک بھی پھیل چکا ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ہتھیاروں کی اصل نوعیت اور صلاحیت ظاہر نہ کیے جانے کے باعث ان نظاموں کے بارے میں کئی اہم تفصیلات تاحال خفیہ ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments