75.3 F
Pakistan
Sunday, September 13, 2026
HomeBreaking Newsخدارا...... عوام کو جینے دیں

خدارا…… عوام کو جینے دیں

راشدخان ہمارے ایک اچھے دوست ہیں۔یاردوست اسے پیارسے موٹاکہتے ہیں مگران کے بھاری چپیڑاورتھپیڑ کی وجہ سے ہم آج تک ایسی کسی غلطی اورگستاخی کے قریب نہیں گئے لیکن ہم نے بارہادیکھاہے کہ انہیں موٹاکہنے والے بھی اکثران سے دس قدم کافاصلہ ضروررکھتے ہیں۔یہ کپتان کے بڑے دیوانے اورپروانے ہیں۔جہاں بھی کوئی سیاسی بحٹ ومباحثہ ہویہ اپنے پیٹی بندیوتھیوں کی طرح آس پاس دیکھے بغیرپی ٹی آئی اور کپتان کے فضائل وبرکات بیان کرناشروع کردیتے ہیں۔عروج سے زوال کے بعدموٹابھی سیاسی بحث ومباحثوں سے دوراورکچھ خاموش خاموش ہوگئے تھے لیکن چنددن پہلے جب پٹرول کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے اندردوتین بار اضافہ ہواتویہ بھی بھری محفل میں خاموشی کاروزہ توڑتے ہوئے کہنے لگے کہ کپتان کی حکومت میں تو پٹرول کی قیمتیں بزھنے پربہت تکلیف ہوتی تھی اب آرام ہے۔؟بھلاپٹرول کی قیمتیں بڑھنے پربھی کوئی آرام ہوتاہے۔مہنگائی جس کی حکومت اورجس دورمیں بھی بڑھے اس سے تکلیف ہی توہوتی ہے مگرراشدخان جیسے نادان سیاسی کارکنوں اوراندھے عقیدت مندوں کوکون سمجھائے۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ محض چند روپے کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ عام آدمی کی زندگی کے بجٹ میں ایک ایسا زلزلہ برپا کرتا ہے جس کے جھٹکے گھر کے چولہے سے لے کر بچے کی فیس، مریض کی دوا، مزدور کی دیہاڑی اور کسان کی فصل تک محسوس ہوتے ہیں۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا ایندھن مہنگا نہیں ہوتا بلکہ زندگی کا ہر پہیہ مزید بھاری ہو جاتا ہے۔آج ملک کا عام شہری پہلے ہی مہنگائی، بیر وزگاری، کم آمدن اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس کے لئے کسی نئے امتحان سے کم نہیں۔ایک مزدور جو روزانہ کی اجرت سے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کرتا ہے وہ آخر کتنی بار اپنے اخراجات کم کرے۔؟ وہ پہلے ہی مٹن،چکن اوربرگرچھوڑ چکا، دال،سبزی، دودھ سمیت کئی بنیادی ضروریات میں کمی کی، بچوں کی خواہشات کو ٹالا، اپناعلاج مؤخر کیا اور اپنی ہزاروں ضروریات ایک وقت کی روٹی کے لئے قربان کیں۔اب تک اس کے پاس کچھ کم کرنے یاقربان کرنے کیلئے کچھ بچاہی نہیں۔سیاسی کارکنوں اورحکمرانوں کوتواس کااحساس نہیں لیکن پٹروک کی قیمتوں کابڑھنادراصل غریب سے زندگی چھیننے کے مترادف ہے کیونکہ پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں جس کی وجہ سے اشیائے خورونوش سبزی، پھل، دودھ اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں ایک دم اوپرچلی جاتی ہیں۔ کسان کے لئے ٹیوب ویل، ٹریکٹر، زرعی مشینری اور فصل کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے۔ دکاندار کے لئے سامان منگوانا مہنگا پڑتا ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت میں ایک اضافہ پھر معاشرے کے ہر طبقے سے اپنی قیمت وصول کرناشروع کردیتا ہے۔جس شخص کی آمدن لاکھوں اورکروڑوں میں ہو اس کے لئے پٹرول کے نرخوں میں اضافہ شائد ایک معمولی بات ہو لیکن جس مزدور کی روزانہ اجرت ہی اس کے گھر کے چولہے کا سہارا ہو، اس کے لئے پھریہی معمولی اضافہ بھی حساب کتاب کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آج موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواؤں یا بچوں کے لئے دودھ لے جاؤں۔؟دفتر جانے کا کرایہ دوں یا گھر کے لئے آٹا خریدوں۔؟ایک طرف حکومتیں معاشی استحکام،ترقی اور خوشحالی کے دعوے کرتی ہیں لیکن دوسری طرف عام آدمی ہر نئے دن کے ساتھ مہنگائی کے ایک نئے پہاڑ کے سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو کب تک قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہے گا۔؟ریاست کا کام صرف محصولات جمع کرنا نہیں، عوام کو سہولت دینا بھی ہے۔ حکومت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ مشکل وقت میں عوام سے قربانی مانگی جائے، حکومت کا اصل امتحان تو یہ ہے کہ جب عوام مشکل میں ہوں تو ریاست ان کے لئے آسانی پیدا کرے۔اگر معیشت مشکل میں ہے تو اس کا بوجھ ہربارصرف غریب کی کمر پر کیوں رکھا جائے۔؟اگر قومی خزانہ دباؤ میں ہے تو کیا کفایت شعاری کا آغاز ہمیشہ اسی عام آدمی سے ہوگا۔؟اللہ کی قسم اس ملک کے لئے ہماراسب کچھ حاضرلیکن سوال صرف یہ ہے کہ اگر ملک کوکوئی قربانی درکار ہو تو کیا قربانی صرف اسی شخص سے لی جائے گی جو پہلے ہی اپناسب کچھ قربان کر چکا ہو۔؟حکمرانوں کے اپنے بچے بھی یقیناً اسی معاشرے کا حصہ ہیں مگر ان کے لئے تعلیم، علاج، سفر، خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولیات وضروریات کاکبھی کوئی مسئلہ نہیں رہامگراس ملک میں مزدور کے بچے آج بھی پٹرول مہنگا ہونے کے بعد والد کے ساتھ گھر کے بجٹ میں کٹوتیاں دیکھ رہا ہے۔ذرا اس ماں کی آنکھوں میں تو جھانکیے جو بچوں کو یہ کہہ کر بہلا رہی ہو کہ آج گوشت نہیں تو کوئی بات نہیں دال کھا لو۔ذرا اس باپ کا دکھ توسمجھئیے جو بچے کی فیس، بجلی کے بل، گھر کے راشن اور موٹر سائیکل کے پٹرول کے درمیان بٹ کر رہ گیا ہو۔یہ لوگ شور نہیں مچاتے شائد اسی لئے ان کادردہمارے حکمرانوں کوسنائی نہیں دیتالیکن عمران خان کی طرح خلق خداکی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا یہ ایک خطرناک غلطی ہے۔عوام خاموش ضرور ہیں لیکن بے حس نہیں۔ وہ سب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں اچھی طرح اندازہ اورپتہ ہے کہ ان کی آمدن کہاں کھڑی ہے اور اخراجات کہاں پہنچ چکے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اشرافیہ کے لئے سہولتیں موجود ہیں اور عام آدمی کے لئے ہر روز نئی مشکل کھڑی ہو رہی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست کے محصولات بڑھتے رہیں اور عوامی مشکلات اورتکالیف کاکوئی ازالہ نہ ہو۔؟کیا حکمرانی کا مقصد صرف اعداد و شمار درست کرنا ہے یا انسانوں اور مخلوقات کی زندگی آسان بنانا بھی حکومت کی کوئی ذمہ داری ہے۔؟ہردوسرے دن عوام کے سرپرپٹرول بم مارنایہ کوئی انسانیت نہیں۔عمران خان اگران غریبوں کی آہ سے نہیں بچے تویہ حکمران کیسے بچ پائیں گے۔؟اس لئے حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے میں صرف ریونیو کا ہدف نہ دیکھے بلکہ عوام کی قوت خرید، مہنگائی، اجرتوں اور مجموعی معاشی حالات کو بھی سامنے رکھے۔غیر ضروری سرکاری اخراجات، مراعات اور شاہانہ طرززندگی پر نظرثانی کئے بغیر بار بار عوام کی جیب سے رقم نکالنا کسی بھی طور انصاف نہیں۔ہم مانتے ہیں کہ ملک چلانے کیلئے عوام کا تعاون اورقربانی ضروری ہے لیکن عوام کو مسلسل نچوڑ کر کوئی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔حکمران عوام کو صرف اعداد و شمار میں نہ دیکھیں بلکہ انہیں اپنے بچوں کی طرح انسان سمجھ کران کی مشکلات کودل سے محسوس کریں۔حکمرانوں کے ستائے یہ بے زبان لوگ اس وقت بول اورچیخ نہیں رہے مگر ان کی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments