ترکیہ کے مشرقی شہر وان میں ہونے والی ایک انتہائی پرتعیش اور شاندار شادی سوشل میڈیا پر اس وقت ایک بڑے مجرمانہ اسکینڈل میں تبدیل ہو گئی جب حکام نے دلہا کو منی لانڈرنگ کے شبے میں گرفتار کر لیا۔ یہ شادی سوشل میڈیا پر سرفہرست رہنے والا ایک لگژری ایونٹ بن چکی تھی، جس کی خاص وجہ دلہن پر لدا ہوا بے تحاشا سونا تھا۔ معروف ترک کنٹینٹ کریئیٹر دلہن چاغلا اوز نے شادی کی تقریب کے دوران سونے کی اتنی بڑی مقدار پہن رکھی تھی جس میں ایک شاندار تاج، بھاری ہار، سونے کے کنگن اور سونے کا بیلٹ شامل تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کلپس میں اس حد تک زیادہ سونا پہنے ہونے کی وجہ سے دلہن کو چلنے پھرنے اور نقل و حرکت میں واضح دشواری کا سامنا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا، بلکہ اس سے قبل اپنی منگنی کی تقریب کے دوران بھی وہ تقریباً انہی قیمتی زیورات کے ساتھ نظر آئی تھیں۔ صارفین نے ان تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا تو تقریب کے اخراجات اور دلہا کے مالی وسائل پر سوالات بھی اٹھنے لگے۔ شادی کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد معاملہ صرف سوشل میڈیا کی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ ترک حکام نے بھی دلہا کے مالی معاملات کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ شادی کی انھی وائرل ویڈیوز اور پوسٹس کا نوٹس لیتے ہوئے وان میں پبلک پروسیکیوٹر نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ بعد میں تحقیقات کا دائرہ دلہا کے اثاثوں، جائیداد اور آمدنی کے ذرائع تک بڑھا دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق پولیس نے 8 ستمبر کی صبح سویرے مرادیہ شہر میں دلہا محمد فاتح تانجالان (جو سوشل میڈیا پر ”فانلی کارا حیدر“ کے نام سے مشہور ہیں) کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ تانجالان کاروں کی تجارت کا کام کرتے ہیں اور اپنا ایک تجارتی کاروبار رکھتے ہیں۔ معاملے کو عدلیہ کے حوالے کیے جانے کے بعد منی لانڈرنگ کے الزام میں ان کی گرفتاری کا باضابطہ حکم جاری کیا گیا، جبکہ ترک مالیاتی جرائم کی تحقیقاتی کمیٹی سے ان کے تمام اثاثوں، جائیداد اور شادی میں نمائش کیے جانے والے سونے کی سخت جانچ پڑتال کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ دورانِ تفتیش دلہا محمد فاتح تانجالان نے اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے صفائی پیش کی کہ ان کی دولت کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا نتیجہ نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دلہن نے جو سونا پہنا تھا اس کا بڑا حصہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں تھا، بلکہ زیورات کے ایک تاجر نے تقریب میں نمائش اور تشہیر کی غرض سے بطورِ اشتہار یہ سونا فراہم کیا تھا جو بعد میں واپس لے لیا جانا تھا۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ تقریب کے کچھ اخراجات سپانسرز نے برداشت کیے تھے کچھ زیورات رشتہ داروں کے تحائف تھے اور ان کی اہلیہ خود بھی سوشل میڈیا کی سرگرمیوں اور اشتہارات کے ذریعے اچھی خاصی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ یوں ایک ایسی شادی جو اپنی شان و شوکت اور دلہن کے بے شمار سونے کے زیورات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی تھی، چند دن بعد مالیاتی تحقیقات کا موضوع بن گئی۔ ترک حکام اس وقت تانجالان کے کاروبار، جائیداد، رقم کے ذرائع اور شادی میں دکھائے گئے سونے سے متعلق دعوؤں کی جانچ کررہے ہیں۔



