83.6 F
Pakistan
Saturday, September 12, 2026
HomeEntertainmentسفید جارجٹ کی ساڑھی اور پورے بازو کی سفید سویٹر میں آن...

سفید جارجٹ کی ساڑھی اور پورے بازو کی سفید سویٹر میں آن اور دلربائی کا مجسمہ معلوم ہو رہی تھی، اس کا بھاری جوڑا روشنی میں چمک رہا تھا

مصنف: صادق حسینقسط: 80ششی دہلیز پر کھڑی تھی۔ وہ سفید شال اوڑھے ہوئے تھی، سفید جارجٹ کی ساڑھی اور پورے بازو کی سفید سویٹر میں آن اور دلربائی کا مجسمہ معلوم ہو رہی تھی، اس کا بھاری جوڑا روشنی میں چمک رہا تھا، اس کے کانوں کی لوؤں میں طلائی ٹاپس جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے، روگ نے اس کے متناسب بدن کو چھریرا کر دیا تھا جس کا بانکپن اور لطافت اور اجاگر ہو گئے تھے۔”ششی! “ پرویز جذبات میں ڈوبی ہوئی آواز سے پکارتا آگے بڑھا۔منیجر کی بیوی دوڑ کر ششی سے لپٹ گئی پھر لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی ”یہ ہماری ششی ہیں جن کا ناچ دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔“پرویز کو منیجر کی بیوی کا یہ رویہ قطعاً پسند نہ آیا، مسز اختر بھنویں سکیڑ کر کونے والے کمرے کے متعلق سوچنے لگیں۔”وہسکی“ ایک آفیسر نے ششی سے مخاطب ہو کر جام پیش کیا۔”شکریہ“ ششی نے مسکرا کر جام تھام لیا اور پھر آنکھیں بند کر کے سارا جام ایک ہی سانس میں ختم کر ڈالا۔پرویز کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ الطاف اور اختر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔منیجر کی بیوی نے ششی کو کلائی سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور پھر اس کے پہلو میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی۔”برانڈی۔“”شکریہ۔“”رم۔“”مہربانی۔“اوپر تلے 3 جام پی کر ششی سرور میں آ گئی، سگار، پائپ اور سگریٹ کے دھوئیں اٹھ اٹھ کر فضا میں پھیلنے لگے، ششی کے آنے سے پہلے مختلف موضوعات پر باتیں ہو رہی تھیں، مگر اب صرف ششی گفتگو کا موضوع بن کر رہ گئی۔ششی نے پیازی آنکھوں سے پرویز کی طرف دیکھا اور پھر چوتھے جام کے لئے ہاتھ بڑھا دیا، یہ سب کچھ آنکھ جھپکتے میں ہو گیا، پرویز، الطاف اور اختر کو تو کچھ کہنے کا موقعہ ہی نہ ملا۔ آخر اختر نے منیجر کی بیوی سے مخاطب ہو کر کہا ”معاف کیجئے گا یہ تھکی ہوئی آئی ہیں ذرا آرام کر لیں تو بہتر ہو گا۔“پیشتر اس کے کہ مینجر کی بیوی کوئی جواب دیتیں ششی بولی ”مجھے تکان بالکل نہیں معلوم ہو رہی، بھلا اتنی اچھی محفل چھوڑ کر بھی کوئی جا سکتا ہے۔“اختر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا، قہقہوں مسکراہٹوں، بہکی بہکی باتوں اور ساغر و مینا کے نرغے میں ششی کے چہرے پر ایک ناقابل بیان مسرت کھیلنے لگی، جیسے اس کی آنکھیں کہہ رہی ہوں ”یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے، مجھے زندگی سے پیار ہے، میں جینا چاہتی ہوں میں ایک گھر بساؤں گی جہاں سکون ہو گا، بھرپور زندگی ہو گی، ناچ ہو گا، گیت ہوں گے اور ننھی منی زندگیوں کی چہل پہل۔“(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی وفات پر معاونتی پیکیج میں تبدیلی کر دی

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments