75.5 F
Pakistan
Friday, September 11, 2026
HomeHealthدوپہر اور رات کے کھانے کے بعد کتنے منٹ پیدل چلنا چاہیے؟

دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد کتنے منٹ پیدل چلنا چاہیے؟

کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے کی عادت نہ صرف جسم کو چست و توانا رکھتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی درست رکھتی ہے۔ کھانے کے بعد اکثر لوگ فوراً صوفے یا بستر کا رخ کرتے ہیں، موبائل استعمال کرنے لگتے ہیں یا ٹی وی دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ بظاہر یہ معمول کی بات لگتی ہے، لیکن کھانے کے بعد کچھ دیر ہلکی چہل قدمی جسم کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد چند منٹ چلنے سے جسم کو متحرک رکھنے میں مدد ملتی ہے اور خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو کم کرنے میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ مصروف زندگی میں لوگوں کے لیے روزانہ لمبی ورزش کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے کھانے کے بعد 10 سے 15 منٹ کی ہلکی واک ایک آسان عادت بن سکتی ہے، کیونکہ اس کے لیے کسی خاص جگہ، مشین یا ورزش کے سامان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کھانے کے بعد 10 سے 15 منٹ کی واک کافی ہے؟ دوپہر کے کھانے کے بعد تقریباً 10 سے 15 منٹ کی آرام دہ چہل قدمی ایک آسان معمول ہو سکتا ہے۔ گھر کے اندر، دفتر کی راہداری میں یا قریب کسی محفوظ جگہ پر بھی یہ واک کی جا سکتی ہے۔ مقصد تیز رفتار ورزش کرنا نہیں بلکہ کھانے کے بعد جسم کو کچھ دیر حرکت دینا ہے۔ رات کے کھانے کے بعد بھی ہلکی واک کریں رات کے کھانے کے بعد بھی چند منٹ ہلکی چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔ رات کے کھانے کے فوراً بعد بھاگنے، تیز دوڑ لگانے یا بہت سخت ورزش کرنے کے بجائے معمول کی رفتار سے چلنا زیادہ مناسب رہتا ہے۔ خاص طور پر اگر کھانا زیادہ مقدار میں کھایا گیا ہو تو جسم کو آرام دہ انداز میں حرکت دینا بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔ کھانے کے بعد واک شوگر کے لیے کیوں مفید ہو سکتی ہے؟ کھانا کھانے کے بعد جسم میں خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس دوران پٹھوں کی ہلکی سرگرمی گلوکوز کے استعمال میں مدد دے سکتی ہے۔ مختلف مطالعات میں کھانے کے بعد مختصر واک کے دوران یا اس کے بعد خون میں شوگر کے ردعمل میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ یہ بات خاص طور پر ان لوگوں کے لیے دلچسپ ہے جو زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ کھانے کے بعد مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے تھوڑی دیر چلنا روزمرہ جسمانی سرگرمی بڑھانے کا آسان طریقہ بن سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض بھی احتیاط کے ساتھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں کچھ تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد میں کھانے کے بعد 15 منٹ کی معتدل واک سے خون میں شوگر کے کنٹرول میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی دوا، انسولین، کھانے اور ورزش کے معمول میں تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنی چاہیے۔ واک کتنی تیز ہونی چاہیے؟ کھانے کے بعد واک کو ورزش کا مقابلہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ ایسی رفتار اختیار کریں جس میں آپ آرام سے چل سکیں اور سانس بہت زیادہ نہ پھولے۔ مقصد جسم کو ہلکی حرکت دینا ہے، نہ کہ کھانے کے فوراً بعد سخت ورزش کرنا۔ اگر کسی شخص کو چلتے ہوئے سینے میں درد، شدید سانس پھولنے، چکر آنے یا غیر معمولی کمزوری محسوس ہو تو ورزش روک دینی چاہیے اور ضرورت کے مطابق طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ہر شخص کی صحت اور جسمانی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے کھانے کے بعد واک کی رفتار اور دورانیہ بھی اسی حساب سے رکھنا چاہیے۔ اگر آپ روزانہ لمبی ورزش نہیں کر سکتے تو دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد چند منٹ کی ہلکی واک سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ چھوٹی سی عادت روزمرہ جسمانی سرگرمی بڑھانے کا آسان ذریعہ بن سکتی ہے۔ نوٹ: یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو ذیابیطس، دل کی بیماری، چکر آنے یا ورزش سے متعلق کوئی طبی مسئلہ ہو تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments