71.3 F
Pakistan
Wednesday, September 9, 2026
HomeLifestyleتاریخی شہر نمرود کے خفیہ راز سامنے آ گئے

تاریخی شہر نمرود کے خفیہ راز سامنے آ گئے

عراق کے قدیم آشوری سلطنت کے تاریخی شہر نمرود کے بارے میں اب تک جوکچھ بھی معلوم تھا وہ زیادہ تر تقریباً 180 سال سے ہونے والی کھدائی زیادہ تر شاہی محلوں اور بلند ٹیلے تک محدود تھا، لیکن اب ایک نئی تحقیق نے اس تاریخی شہر کے اس حصے پر توجہ مرکوز کی ہے جو اتنے طویل عرصے تک تقریباً نظر انداز ہوتا رہا۔ ماہرین آثار قدیمہ نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نمرود کے تقریباً 340 ہیکٹر پر پھیلے پورے فصیل بند شہر کا جائزہ لیا ہے۔ یونیورسٹی آف اُدینے کے محققین نے اب اس شاہی ٹیلے کے ارد گرد پھیلے ہوئے 340 ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے پرانے شہر کے باقی حصوں کی کھوج کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عام لوگ وہاں کیسے رہتے تھے۔ اس کام میں پرانی فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون، جدید جی پی ایس، زمین پر پیدل سروے اور مقناطیسی پیمائش کرنے والے آلات استعمال کیے گئے۔ محققین کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ قدیم شہر کس طرح پھیلا ہوا تھا اور عام لوگ شاہی محلوں سے باہر کس ماحول میں زندگی گزارتے تھے۔ نمرود میں پہلی بڑی کھدائی 1845 میں ماہر آثار قدیمہ آسٹن ہنری لیارڈ نے شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے تحقیق کا زیادہ تر حصہ شہر کے بلند حصے پر رہا، جہاں شاہی محلات، مندر، بڑی عمارتیں، مجسمے اور بادشاہوں کے کتبے موجود تھے۔ اس وجہ سے نمرود کے عام رہائشی علاقوں، گلیوں، کاریگروں کی جگہوں، عوامی عمارتوں اور کھلی جگہوں کے بارے میں معلومات محدود رہیں۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق نمرود، جسے آشوری دور میں کَلخو کہا جاتا تھا، 879 قبل مسیح سے 707 قبل مسیح تک آشوری سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ شہر کے نچلے حصے کے گرد تقریباً 8 کلومیٹر طویل فصیل موجود تھی، جس میں بڑے دروازے اور مضبوط برج بھی شامل تھے۔ نئی تحقیق میں پرانی خفیہ فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ٹیم نے 1967 سے 1974 کے درمیان لی گئی مشنز کی تصاویر کا جائزہ لیا۔ ان تصاویر سے اندازہ ہوا کہ زمین کے نیچے قدیم شہر کی گلیوں، فصیلوں، دروازوں اور مختلف آبادی والے علاقوں کے آثار اب بھی محفوظ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد محققین نے پورے نچلے شہر کو 40 بائی 40 میٹر کے حصوں میں تقسیم کرکے پیدل سروے کیا۔ ہر حصے میں زمین کی سطح پر موجود آثار کو ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح تیار کیے گئے ڈیٹا سے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مختلف ادوار میں شہر کے کون سے حصے آباد رہے ہوں گے۔ تحقیق کے دوران زمین پر ملنے والے برتنوں اور دیگر اشیا سے معلوم ہوتا ہے کہ نمرود کے علاقے میں انسانی آبادکاری کا سلسلہ 3000 قبل مسیح سے اسلامی دور تک جاری رہا۔ تاہم تین ادوار میں یہاں نسبتاً زیادہ سرگرمی کے آثار ملے۔ ان میں درمیانی آشوری دور، نو آشوری دور اور آشوری سلطنت کے خاتمے کے بعد کا دور شامل ہیں۔ محققین کو کچھ تحریری آثار بھی ملے، جن میں زیادہ تر پکی ہوئی اینٹوں کے ٹکڑے شامل ہیں۔ ان میں پانچ مختلف کتبوں یا منشوروں کے ٹکڑے بھی شامل تھے، جن کا تعلق آشوری بادشاہوں سناخریب اور آشور بانی پال سے بتایا گیا ہے۔ تحقیق کا ایک اہم حصہ مقناطیسی سروے تھا۔ اس طریقے سے زمین کھودے بغیر اس کے اندر موجود بعض ساختوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سروے سے زیر زمین گلیوں، رہائشی علاقوں اور بڑی عمارتوں جیسے ڈھانچوں کے آثار سامنے آئے۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ صرف مقناطیسی نقشے سے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی گلی یا عمارت کس دور کی ہے یا وہاں کون لوگ رہتے تھے۔ اسی وجہ سے ماہرین نے تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ زمین کی سطح پر ملنے والے برتن بھی کسی مخصوص دور میں انسانی موجودگی کا اشارہ تو دے سکتے ہیں، لیکن ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہاں کتنے لوگ رہتے تھے یا ان کے گھر اور زندگی کا نظام کیسا تھا۔ نمرود کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی نئی تحقیق نے ایک سوال اٹھایا ہے۔ عام طور پر شہر کو پانی فراہم کرنے کا سہرا پتی ہیگلی نہر کو دیا جاتا ہے، جسے آشوری بادشاہ آشور ناصر پال دوم کے دور سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم نئی زمینی پیمائشوں کی بنیاد پر محققین کا کہنا ہے کہ نمرود کے آبی نظام کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ شہر کو پانی فراہم کرنے میں زیادہ شمالی سمت سے آنے والی نہروں کا کردار ہو سکتا تھا، لیکن اس بارے میں ابھی کھدائی سے براہ راست ثبوت موجود نہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق نمرود کی زمین اس لیے بھی اہم ہے کہ آشوری سلطنت کے زوال کے بعد یہاں دوسرے بڑے آشوری شہروں کی طرح بڑے پیمانے پر دوبارہ آبادکاری نہیں ہوئی۔ موجودہ دور میں بھی یہاں کاشت کاری نسبتاً کم گہرائی تک ہوتی ہے، جس کی وجہ سے زمین کے نیچے موجود قدیم آثار کا ایک بڑا حصہ محفوظ رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرود کے نچلے شہر کو سمجھنے کے لیے ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ ماہرین مستقبل میں مزید مقناطیسی اور دیگر سائنسی سروے، زمین اور مٹی کے ماہرین کی مدد سے تحقیق، مخصوص مقامات پر محدود کھدائی اور بڑے حصوں میں باقاعدہ کھدائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نمرود کی نئی تحقیق نے اس قدیم آشوری شہر کو صرف بادشاہوں اور شاہی محلات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے عام لوگوں کی بستی کے طور پر سمجھنے کا راستہ کھولا ہے۔ تقریباً 340 ہیکٹر پر پھیلا وہ علاقہ جسے 180 سال تک زیادہ تر کھدائی سے دور رکھا گیا، اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک نئی تاریخی تصویر پیش کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس تصویر کے کئی حصوں کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید تحقیق اور کھدائی ضروری ہوگی۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments