مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جبکہ مہنگائی کے خدشات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی محتاط رجحان دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں مسلسل چوتھے سیشن اضافہ ہوا اور ابتدائی کاروبار میں قیمت ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئی۔ برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 1. 57 ڈالر اضافے کے بعد 99. 49 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جو جون کے اواخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 1. 60 ڈالر اضافے کے بعد 94. 63 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر افراط زر کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس کے پیش نظر سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا کے اہم صارف قیمت اشاریہ (CPI) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جو جمعہ کو جاری کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے متعدد شہروں پر حملے کیے، جس سے امریکا کے اتحادی سعودی عرب بھی تنازع میں مزید الجھ گیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے متعدد ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں عمومی طور پر محتاط رجحان رہا۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 0. 3 فیصد نیچے آئی، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0. 6 فیصد گر گیا، جبکہ چین کی بڑی کمپنیوں پر مشتمل سی ایس آئی 300 انڈیکس 0. 2 فیصد اوپر آیا۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی، چِپ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے شیئرز میں بہتری کے باعث بعض مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکی انڈیکس 0. 6 فیصد بڑھا، جو منگل کو 1. 7 فیصد گر گیا تھا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1. 6 فیصد جبکہ تائیوان کا ٹی اے آئی ای ایکس 0. 6 فیصد بڑھ گیا۔ امریکی مارکیٹ میں بھی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے انڈیکس میں 1. 3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم وال اسٹریٹ کے تینوں بڑے انڈیکس منگل کو کمی کا شکار رہے۔ ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0. 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جاپانی ین کی قدر میں بھی اضافہ ہوا اور یہ ڈالر کے مقابلے میں تقریباً سات ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ ین 0. 2 فیصد مضبوط ہوکر 153. 66 فی ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 152. 89 کی سطح تک پہنچ گیا تھا۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق گزشتہ پانچ سیشنز کے دوران ین کی قدر میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جاپان کے مرکزی بینک کے حکام کے سخت مؤقف اور شرح سود میں تیزی سے اضافے کی توقعات نے بھی ین کی طلب بڑھائی ہے۔ دوسری جانب یورو کی قدر میں معمولی اضافہ ہوا اور یہ 0. 1 فیصد بڑھ کر 1. 1629 ڈالر ہوگیا۔ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔ برطانوی پاؤنڈ 1. 3545 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ بینک آف انگلینڈ کی جانب سے آئندہ ہفتے شرح سود کے حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ کے لیے اہم اشارہ بن چکی ہے اور برینٹ خام تیل کا 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرنا اب ممکن دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی مہنگائی کے خدشات کے باعث حالیہ ہفتوں میں اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ بڑھا ہے جبکہ بانڈز کی شرح منافع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کار اب امریکی افراط زر کے اعداد و شمار اور آئندہ دنوں میں مرکزی بینکوں کے شرح سود سے متعلق فیصلوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔



