لندن میں سائنس دانوں نے ایسا پارٹی غبارہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مکمل طور پر حیاتیاتی طور پر تحلیل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا اپنی نوعیت کا پہلا غبارہ ہے جو استعمال کے بعد نسبتاً مختصر مدت میں مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ امپیریل کالج لندن کے محققین کا کہنا ہے کہ عام غباروں کو ماحول میں تحلیل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ اس دوران ان سے بعض نقصان دہ کیمیائی مادے بھی خارج ہو سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نیا تیار کیا گیا غبارہ، جسے ”بایولون“ کا نام دیا گیا ہے، تقریباً نو ماہ کے اندر قدرتی طور پر تحلیل ہو جاتا ہے۔ اس منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والوں میں ایک پارٹی منتظم بھی شامل ہے، جس کا مقصد غباروں کے کچرے سے سمندری حیات کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق بایولون کی قیمت عام غبارے سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ اسے پھلانا بھی نسبتاً آسان ہے۔ امپیریل کالج کی اس تحقیق میں پی ایچ ڈی کی محقق اور اس غبارے کی شریک موجد 29 سالہ جولیانا کمنگ کے مطابق عام غباروں کو مضبوط اور زیادہ لچک دار بنانے کے لیے ایک مخصوص کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عمل غبارے کو مکمل طور پر تحلیل ہونے سے روکتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ نقصان دہ کیمیکلز ماحول میں شامل ہو سکتے ہیں۔ نئے غبارے میں، تاہم، حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے اجزا کو کسی نقصان دہ اضافی کیمیکل کے بغیر اس انداز سے جوڑا گیا ہے کہ استعمال کے بعد وہ مکمل طور پر تحلیل ہو سکیں۔ غباروں کا کچرا سمندری حیات کے لیے خطرہ پارٹیوں کے لیے خصوصی انتظامات کرنے والی چارلوٹ میلیا نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں غباروں سے بنائے جانے والے بڑے محرابی ڈیزائن، جنہیں ’’بالون آرچز‘‘ کہا جاتا ہے، خاصے مقبول ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر معروف شخصیات اور انفلوئنسرز کی تقریبات دیکھ کر بھی لوگ اس رجحان کی جانب راغب ہوئے۔ تاہم میلیا کے مطابق انہیں اس بات پر تشویش ہونے لگی کہ تقریبات کے بعد بڑی تعداد میں پھینکے جانے والے غبارے ماحول اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑے پروگرام کے بعد جب وہ ہزاروں پھٹے ہوئے غباروں کے درمیان موجود تھیں تو انہیں احساس ہوا کہ اس مسئلے کے خلاف عملی قدم اٹھانا ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے ماحول دوست متبادل تلاش کرنے پر کام شروع کیا۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق غباروں کے ٹکڑے سمندری کچرے کی ان اقسام میں شامل ہیں جو انہیں نگلنے والے سمندری پرندوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ سخت پلاسٹک نگلنے کے مقابلے میں غبارے کے ٹکڑے نگلنے سے پرندوں کے مرنے کا امکان 32 گنا زیادہ تھا۔ ماحولیاتی کارکن بھی کھلے آسمان پر غبارے چھوڑنے کے خلاف پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، کیونکہ غبارے واپس زمین یا سمندر میں گرنے کے بعد جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق بعض ایسے غبارے بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جن پر ’’100 فیصد تحلیل‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن وہ بھی لازماً مکمل طور پر تحلیل نہیں ہوتے۔ امپیریل کالج کے سائنس دانوں نے بتایا کہ عام قدرتی ربڑ کے غباروں کو مضبوط بنانے کے لیے سلفر کے ذریعے ایک صنعتی عمل سے گزارا جاتا ہے، جس میں مختلف کیمیائی اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ ان میں بعض بھاری دھاتوں کے نمکیات اور نائٹروسامینز بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو غبارے کے ٹوٹنے یا تحلیل ہونے کے دوران ماحول میں شامل ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ بایولون بھی قدرتی ربڑ سے تیار کیا جاتا ہے، تاہم اس میں پولیمر کی زنجیروں کو جوڑنے کے لیے نقصان دہ اضافی کیمیکلز استعمال نہیں کیے جاتے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ماحول دوست غبارے کو آئندہ دو برس کے اندر تجارتی سطح پر دستیاب کرانے کا منصوبہ ہے۔ پارٹی منتظم چارلوٹ میلیا کو امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو صرف غباروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق مستقبل میں اسی طریقہ کار کو دستانوں، جراحی اور دیگر طبی لیٹیکس مصنوعات، طبی آلات اور لباس کی تیاری میں بھی استعمال کرنے کے امکانات پر کام کیا جا سکتا ہے۔



