68.7 F
Pakistan
Sunday, September 6, 2026
HomePoliticsمدینے کی دہلیز پر ایک غمزدہ خاندان کی فریاد(1)

مدینے کی دہلیز پر ایک غمزدہ خاندان کی فریاد(1)

ہم جا رہے ہیں۔۔۔یک ایسے سفر پر، جس کی منزل کوئی شہر نہیں، کوئی ملک نہیں، کوئی سرحد نہیں،بلکہ وہ بستی ہے جہاں پہنچ کر دِل کی زبان بدل جاتی ہے، آنکھوں کے آنسو دعا بن جاتے ہیں اور انسان اپنے دکھوں کو لفظوں میں نہیں، خاموشی میں بیان کرنے لگتا ہے۔ہم عمرے پر جا رہے ہیں،مگر اس بار ہم صرف مسافر نہیں ہیں۔ہم ایک غم زدہ خاندان ہیں۔میں ایک ایسا باپ ہوں جس کا جوان بیٹا دنیاسے چلا گیا ہے۔میری بیوی ایک ایسی ماں ہے جس کا لخت جگر اچانک رخصت ہوگیا۔میرا بیٹا اور میری بیٹی بھی ہمارے ساتھ ہیں اپنے بڑے بھائی کی یاد دل میں لئے، اس کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے،اس کے لئے دعائیں کرتے ہوئے۔ہم سب مدینے جا رہے ہیں۔مگر ہمارے ساتھ ہمارا وہ بیٹا بھی جا رہا ہے جو اب ہمارے درمیان نہیں۔اس کی یاد۔اس کی آواز۔اس کی مسکراہٹ۔اس کے خواب۔اس کے ساتھ گزرا ہوا وقت۔اور ایک پورے گھر کی وہ خاموشی جو اس کے جانے کے بعد ہمارے اندر اتر گئی ہے۔ہم مدینے جا رہے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارا یہ سفر صرف ہمارا نہیں۔ پاک فضائیہ نے گزشتہ سال بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، ایئر وائس مارشل حسن فیصل ایک ماں اپنے بیٹے کا غم لیکر جا رہی ہے۔ایک باپ اپنے جوان بیٹے کی جدائی کا زخم لئے جا رہا ہے۔ایک بھائی اپنے بڑے بھائی کی یاد لئے جا رہا ہے۔ایک بہن اپنے اس بھائی کی کمی دِل میں لئے جا رہی ہے جس کے ساتھ زندگی کے کتنے خواب، کتنی باتیں اور کتنی یادیں وابستہ تھیں اور ہم سب کے دِل میں ایک ہی آرزو ہے: یا رسول اللہؐ! ہمیں اپنی محبت اور اپنے قرب کی بھیک عطا ہو۔میں سوچتا ہوں، مدینے کی گلیوں میں جب پہلی بار میری نگاہ گنبد ِ خضرا پر پڑے گی تو میں کیا کروں گا؟شاید میں کچھ کہہ نہ سکوں۔شاید میرے ہونٹ بند ہوں گے اور آنکھیں بول رہی ہوں گی۔شاید میری بیوی کے آنسو اس کی پوری داستان سنا رہے ہوں گے۔شاید میرے بیٹے اور بیٹی کے دل میں اپنے بڑے بھائی کی یاد ایک ساتھ جاگ اُٹھے گی اور شاید ہم چاروں ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور کچھ کہے بغیر سمجھ جائیں گے کہ ہم کس درد کو ساتھ لے کر یہاں پہنچے ہیں۔ ایشین گیمز میں پاکستان 6 سے 7 ایونٹس میں میڈلز حاصل کر سکتا ہے: سیکریٹری پی او اے شاید دل میں ایک ہی صدا اُٹھے گی: یا رسول اللہ ؐ! ہم بہت تھک گئے ہیں۔ہم اپنے رب سے شکوہ نہیں کر رہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس کا فیصلہ حق ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ موت اٹل ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ جو کچھ اس نے دیا، اسی کا تھا، اور جو کچھ اس نے واپس لیا، وہ بھی اسی کا تھا لیکن یا رسول اللہؐ! دِل تو دِل ہے۔یہ دلیلوں سے نہیں سمجھتا۔یہ کبھی کسی تصویر کو دیکھ کر ٹوٹ جاتا ہے۔کبھی کسی آواز میں اپنے بیٹے کی آواز سن لیتا ہے۔کبھی کسی نوجوان کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے دِل دھڑک اُٹھتا ہے کہ شاید وہی ہے۔پھر حقیقت سامنے آتی ہے اور دِل دوبارہ زمین پر گر پڑتا ہے۔میری بیوی کے لئے یہ غم صرف ایک یاد نہیں۔یہ ایک ماں کے دِل میں ہمیشہ زندہ رہنے والی کسک ہے۔وہ بیٹا جسے اس نے اپنی گود میں اٹھایا تھا، جس کی بیماری میں راتیں جاگ کر گزاری تھیں، جس کے لئے دعائیں کی تھیں، جس کے مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔آج اسی بیٹے کی یاد لئے مدینے کی طرف جا رہی ہے۔ میرے بیٹے اور بیٹی کے لئے بھی یہ سفر آسان نہیں۔ان کے ساتھ بڑا بھائی نہیں ہے۔ وہ جس کے ساتھ بچپن کی کتنی یادیں وابستہ ہیں، وہ اب صرف یادوں میں ہے،لیکن شاید اِسی لئے ہم سب کو مدینہ بلا رہا ہے۔شاید اللہ چاہتا ہے کہ ہمارے گھر کے اس بڑے زخم پر اپنے محبوبؐ کی نسبت کی ٹھنڈک رکھ دی جائے۔میں اسی شکستہ دِل کے ساتھ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔میں کوئی بڑی بات لے کر نہیں آ رہا۔نہ میرے پاس کوئی نذر ہے، نہ کوئی دعویٰ۔بس ایک خاندان ہے،زخمی، تھکا ہوا، اشک بار۔ایک ماں۔ایک باپ۔ایک بیٹا۔ ایک بیٹی۔اور ہم سب کے درمیان ایک ایسی کمی جو کوئی لفظ پورا نہیں کر سکتا۔ امریکی بحری جہازوں کے خلاف مزید ’شدید اور بڑے پیمانے‘ پر کارروائی کی جائے گی: ایران اور ایک سوال ہے: یا رسول اللہؐ! بیٹے کے جانے کے بعد ماں کہاں جائے؟ باپ کہاں جائے؟ بہن اور بھائی کس سے اپنے دِل کی بات کہیں؟میں نے سوچا، مدینہ ہی چلتے ہیں۔وہاں جہاں آپؐ نے غمزدہ دلوں کو صبر سکھایا۔ وہاں جہاں رحمت کی خوشبو آج بھی محسوس ہوتی ہے۔وہاں جہاں ہر آنے والا اپنے دل کا حال لئے آتا ہے۔ یا رسول اللہؐ! ہم نے آپ کو دیکھا نہیں، مگر عمر بھر آپ کو چاہا ہے۔آپ کی سیرت پڑھی ہے۔آپ کا نام سنا ہے تو دِل نرم ہوا ہے۔آپ پر درود بھیجا ہے توآنکھیں بھیگی ہیں۔ آپ کی محبت کو ایمان کا حصہ سمجھا ہے اور آج جب زندگی نے ہمارے ہاتھ سے ہمارا جوان بیٹا چھین لیا ہے، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں کسی ایسے دروازے کی ضرورت ہے جہاں ہم اپنے دِل کا حال کہہ سکیں۔اور مدینے سے زیادہ اپنا دروازہ ہمیں کوئی اور دکھائی نہیں دیتا۔میں جانتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔میں جانتا ہوں کہ حاجت روا، مشکل کشا اور فریاد رس حقیقی طور پر صرف اللہ تعالیٰ ہے،مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ ؐ اللہ کے محبوب ہیں اور ایک ٹوٹا ہوا دل محبوب کے محبوب کے در پر آ کر بیٹھ جائے تو اسے شاید کچھ سکون مل جائے۔ رحیم یار خان میں ٹریکٹر ٹرالی اور ٹریلر میں تصادم، 7 افراد جاں بحق یا رسول اللہؐ! ہم آپ سے دنیا نہیں مانگتے۔ہم اپنے بیٹے کو واپس مانگنے کی جسارت بھی نہیں کرتے۔ہم جانتے ہیں کہ موت کے دروازے سے کوئی واپس نہیں آتا۔ہم صرف یہ مانگنے آئے ہیں کہ ہمارے دِل آپ کی محبت سے خالی نہ ہوں۔میری بیوی کے آنسوؤں کو دُعا بنا دیجئے۔ میرے آنسوؤں کو دُعا بنا دیجئے۔میرے بیٹے کے دِل کی خاموشی کو دُعا بنا دیجئے۔میری بیٹی کے دل کی کسک کو دعا بنا دیجئے۔ہم سب کو اپنے رب کے قریب کر دیجئے۔ہمارے بیٹے کی جدائی کو ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان قرب کا ذریعہ بنا دیجئے۔ہماری اس ٹوٹ پھوٹ کو ہمارے ایمان کی تعمیر بنا دیجئے اور جب ہم آپ کے روضہئ اقدس کے سامنے کھڑے ہوں تو ہمارے دِلوں کو یہ یقین نصیب ہو کہ ہم اس نبیؐ کی امت میں ہیں جس نے غمزدہ دلوں کے لئے رحمت کا دروازہ کھولا تھا۔ ملک بھر میں آج یومِ دفاعِ و شہدا جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے (جاری ہے) ٭٭٭٭٭

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments