کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں ان کے دوستوں کے نئے اور اہم بیانات سامنے آئے ہیں۔ آج نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میر رضا کے دوستوں احمد بھردے اور عبداللہ نے اس شکوک و شبہات سے بھرپور واقعے سے قبل پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ عبداللہ کے مطابق بدھ کے روز میر رضا نے انہیں بلایا تھا جس کے بعد ان کی بہادر آباد میں کچھ لوگوں سے میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد وہ قریبی ریسٹورنٹ پر لنچ کے لیے گئے جہاں آرڈر دینے سے پہلے ہی انہوں نے دیکھا کہ میر رضا سخت پریشان تھا۔ عبداللہ نے بتایا کہ جب انہوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو میر رضا نے رازدار سمجھ کر دو تین باتیں بتائیں اور کہا کہ عبداللہ بھائی یہ کسی کو نہیں بتانا۔ عبداللہ کا کہنا تھا کہ میر رضا نے ایک اور معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک معاملہ ہے جو ہوا ہے، لیکن جب مزید پوچھا گیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ بس دعا کرو۔ عبد اللہ نے کہا کہ انہوں نے یہ تمام معلومات اور باتیں اب تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ شیئر کر دی ہیں۔ دوسرے دوست احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا نے انہیں بتایا تھا کہ اس نے کرپٹو میں بیس لاکھ سے زیادہ کا چھکا مارا ہے اور میر رضا کا کاروبار اس کے گھر والوں کو ہی ملے گا۔ احمد کے مطابق لنچ ختم ہونے پر میر رضا نے کہا کہ بل مجھے دینے دو، یہ آخری بار ہے۔ یاد رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو فیروز آباد سے لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس سے ملی تھی۔ ابتدائی طور پر اسے خودکشی کا رنگ دیا گیا تھا لیکن اہلِ خانہ کے شدید تحفظات، عدالتی حکم پر قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں چوٹوں کے شواہد ملنے پر مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔ اہلِ خانہ شروع سے اسے قتل قرار دیتے رہے ہیں جس کے بعد سندھ حکومت نے شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا۔ اس وقت کیس میں استعمال ہونے والے اسلحے کی عدم برآمدگی اور ضائع ہونے والے ثبوت تفتیشی اداروں کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔



