صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلح افواج نے اتوار کو ’یوم دفاع‘ پر اپنے الگ الگ پیغامات میں ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ چھ ستمبر 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج کی طرف سے وطن کی سرحدوں کا دفاع کرنے اور لازوال قربانیاں دینے کی یاد میں ہر سال چھ ستمبر کو یوم دفاع اور شہدا منایا جاتا ہے۔ اتوار کو 61ویں یوم دفاع کے موقعے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنی آزادی، خودمختاری اور وطن کے دفاع کے لیے متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔‘ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’چھ ستمبر کا یہی جذبہ ایک بار پھر آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی میں نمایاں ہوا ہے۔۔۔ معرکۂ حق نے ہماری قومی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب رقم کیا ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کو پاکستان میں اپنے پراکسی عناصر کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینے سے باز آنا ہوگا۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے استحکام کا ایک موثر اور ذمہ دار ستون بن کے ابھرا ہے اور اپنی سرحدوں سے آگے بھی امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کے اجتماعی سلامتی ، علاقائی امن و استحکام اور قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔‘ اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’چھ ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو ہمیں وطن عزیز کے دفاع کے لیے مسلح افواج اور قوم کے بے مثال عزم، اتحاد اور عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔‘ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ملک کو دپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ’قومی اتحاد اور یکجہتی‘ پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمارا روایتی دشمن، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے، تاہم ان دشمن قوتوں کو مسلسل اور فیصلہ کن شکستوں کا سامنا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی دشمن قوتوں کی مذموم سازشوں کو بھی پوری قوت اور عزم کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔‘ پاکستان کی مسلح افواج نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ ’چھ ستمبر قومی اتحاد، حوصلے اور عزم کی ایک لازوال علامت کے طور پر برقرار ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ 1965 کی جنگ کے دوران پاکستانی قوم مادرِ وطن کے دفاع میں کس طرح متحد ہو کر کھڑی ہوئی تھی۔‘ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور پُرامن بقائے باہمی کے عزم پر قائم ہے۔‘ مزید کہا گیا کہ ’اس عزم کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘ آصف علی زرداری شہباز شریف یوم دفاع جنوبی ایشیا چھ ستمبر 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج کی طرف سے وطن کی سرحدوں کا دفاع کرنے اور لازوال قربانیاں دینے کی یاد میں آج یوم دفاع منایا جا رہا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, ستمبر 6, 2026 – 08: 30 Main image:
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چھ ستمبر 1965 کو دی گئی قربانیوں پر اپنے الگ الگ پیغامات میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا ہے (اے ایف پی)
پاکستان type: news related nodes: قومی اتفاق رائے، ادارہ جاتی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت: صدر زرداری کی زیر صدارت اجلاس تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان پرعزم، پانی کو ہتھیار نہیں بنانا چاہیے: شہباز شریف افغان طالبان نے ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر‘ عبور کر لی: صدر زرداری مکہ معاہدے پر صدر ٹرمپ کی حمایت کا شکریہ: شہباز شریف SEO Title: کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا: سیاسی و عسکری قیادت کا یوم دفاع پر پیغام copyright: show related homepage: Show on Homepage



