پاکستان کے عبوری ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے امید ظاہر کی ہے کہ بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے گزرنے والی ان کی ٹیم اگلے ہفتے برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کے ساتھ ’افراتفری‘ سے نمٹنے میں کامیاب ہوگی۔ پاکستان کو ہیڈنگلے میں سیریز کے افتتاحی میچ میں ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اتوار کو لارڈز میں اسے 194 رنز سے شکست ہوئی اور یوں انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان شکستوں پر ڈرامائی انداز میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے، مزید سات کھلاڑیوں کو طلب کرنے اور برطرف کیے گئے ٹیسٹ کوچ سرفراز احمد کی جگہ پہلے سے ہی پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کے سربراہ مائیک ہیسن کو تعینات کرنے کا غیر معمولی قدم اٹھایا۔ وطن واپس بھیجے جانے والوں میں سینیئر کھلاڑی امام الحق اور سلمان علی آغا، جو بابر اعظم کے زخمی ہونے پر ہیڈنگلے میں پاکستان کے کپتان تھے، شامل ہیں۔ بائیں بازو کے سپن بولر علی عثمان، جنہوں نے ہیڈنگلے میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور سیمر خرم شہزاد کو بھی وطن واپس بھیج دیا گیا۔ سات متبادل کھلاڑیوں میں سے صرف بلے بازوں صائم ایوب اور عبداللہ فضل کے پاس ٹیسٹ کا تجربہ ہے۔ تاہم، مائیک ہیسن کا خیال ہے کہ اب پورا سکواڈ متحد ہو سکتا ہے اور نو ستمبر کو ایجبسٹن میں تیسرا ٹیسٹ شروع ہونے پر اپنی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیک ہیسن حال ہی میں ایشین گیمز کی تیاری کے لیے جاپان میں تھے اور انہیں صرف شاہ چارلس کے ساتھ سکواڈ کی ملاقات کے لیے برطانیہ کا سفر کرنا تھا، جو بدھ کو ہوئی۔ بی بی سی کے مطابق مائیک ہیسن نے جمعے کو ایجبسٹن میں صحافیوں کو بتایا: ’میں شاہ سے ملنے اور ایک اچھی تقریب کا حصہ بننے جا رہا تھا۔ اس کام میں جلدی ہو گئی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’گذشتہ دو دن ہوٹل میں رہنے کے حوالے سے مشکل رہے ہیں جہاں کچھ کھلاڑی آ رہے تھے، کچھ جا رہے تھے اور پھر سب کی آمد ہوئی۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’لڑکے شاید میرے مقابلے میں تھوڑی بہت افراتفری کے زیادہ عادی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مایوس ہوئے ہیں، بے حد مایوس ہوئے ہیں۔ ہمیں اسے پس پشت ڈال کر یہ سوچنا پڑا کہ ’ٹھیک ہے، اب یہاں سے آگے کہاں جانا ہے؟‘ گذشتہ دو دنوں میں وہ واقعی بہت اچھے رہے ہیں۔‘ مائیک ہیسن نے مزید کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی چاہتا ہے کہ کسی سیریز کے وسط میں ایسا ہو۔ ’میرے نقطہ نظر سے، یہ ایک متوازن سکواڈ تشکیل دینے کے بارے میں ہے، نہ صرف اس ٹیسٹ کے لیے، تاکہ ہمارے اٹیک میں واقعی کچھ تنوع آئے۔‘ بقول مائیک ہیسن: ’پاکستان اپنی تیز بولنگ غیر معمولی ایکشنز اور مسٹری سپن کے لیے جانا جاتا ہے۔ ہم واقعی اس میں سے کچھ بھی پیش نہیں کر سکے ہیں۔‘ کرکٹ عاقب جاوید ٹیسٹ سیریز ٹیسٹ سکواڈ پاکستان کے عبوری ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے امید ظاہر کی ہے کہ بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے گزرنے والی ان کی ٹیم اگلے ہفتے برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کے ساتھ ’افراتفری‘ سے نمٹنے میں کامیاب ہوگی۔ اے ایف پی ہفتہ, ستمبر 5, 2026 – 09: 45 Main image:
پاکستان کے عبوری ہیڈ کوچ مائیک ہیسن 11 ستمبر، 2025 کو دبئی میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں (اے ایف پی)
کرکٹ type: news related nodes: ٹیم خوف سے کھیل رہی ہے، عاقب ’خود کو آئینے میں دیکھیں‘: گلیسپی سابق کوچ جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید کو ’مسخرہ‘ قرار دے دیا ایسا لگا پاکستان کرکٹ کو میری ضرورت نہیں: سابق کوچ گلیسپی ’تجربے کا خزانہ‘: مائیک ہیسن پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر SEO Title: ٹیم میں ڈرامائی تبدیلیاں، پاکستانی کھلاڑی ’افراتفری‘ کے عادی ہیں: مائیک ہیسن copyright: show related homepage: Hide from Homepage



