کراچی کی سٹی کورٹ میں کارساز حادثہ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے ملزمہ نتاشا کو منشیات کیس میں بری کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سٹی کورٹ میں کارساز حادثہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے منشیات سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ نتاشا کو بری کردیا ہے۔ یہ کیس اگست 2024 میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے سے متعلق ہے جس میں ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ موقع پر ہی جاں بحق جبکہ چار دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کے فوری بعد پولیس نے موقع سے گاڑی چلانے والی خاتون نتاشا کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا تھا اور ان کے خلاف قتل بالسبب کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کے مطابق 19 اگست کو کارساز روڈ پر گاڑی بے قابو ہو کر راہگیروں پر چڑھ دوڑی تھی۔ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ خاتون نے پہلے ایک گاڑی اور موٹر سائیکل کو ٹکر ماری اور فرار ہونے کی کوشش میں باپ بیٹی کی موٹر سائیکل کو روند ڈالا تھا۔ تفتیشی حکام کو موصول ہونے والی میڈیکل اور یورین رپورٹ میں آئس کے استعمال کے شواہد کی نشاندہی کے بعد 31 اگست کو ملزمہ کے خلاف منشیات کے استعمال کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی قانونی کارروائی کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے دس لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظور کی تھی جس کے بعد ستمبر 2024 میں انہیں 43 دن جیل میں رہنے کے بعد رہائی مل گئی تھی۔ ساتھ ہی سندھ ہائیکورٹ سے بھی منشیات کے کیس میں نتاشا کی ضمانت منظور ہوگئی تھی۔



