بولی ووڈ کے معروف شاعر اور اسکرین رائٹر جاوید اختر ایک بار پھر مذہب سے متعلق اپنے خیالات کے باعث خبروں میں ہیں۔ جاوید اختر کھل کر بتا چکے ہیں کہ وہ کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے، تاہم وہ تمام مذاہب اور ان کے ماننے والوں کا احترام کرتے ہیں۔ حال ہی میں جاوید اختر کی ایک پرانی گفتگو دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جس میں انہوں نے اپنے بیٹے اور فلم ساز فرحان اختر کے بچپن کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا۔ جاوید اختر نے بتایا کہ جب فرحان تقریباً 8 سال کے تھے تو وہ ایک دن اسکول سے واپس آئے۔ ان کے کندھے پر بستہ لٹکا ہوا تھا اور انہوں نے گھر آتے ہی سیدھا اپنے والد سے سوال کیا، ”کیا ہم مسلمان ہیں؟“ جاوید اختر کے مطابق اس وقت تک انہوں نے اپنے بچوں فرحان اور زویا کو کسی مذہب سے منسوب نہیں کیا تھا۔ اس سوال پر انہوں نے اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ کسی شہر یا علاقے میں پیدا ہوتا ہے اور کسی معاشرے کا حصہ بنتا ہے، لیکن یہ بات بالکل ضروری نہیں ہے کہ انسان صرف اس وجہ سے کسی خاص خانے میں بند ہو جائے۔ بقول جاوید اختر انہوں نے بچوں کو کسی ایک مذہب کی پابندی میں نہیں باندھا، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں خود اپنی سمجھ کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔ جاوید اختر نے اپنی گفتگو میں بچوں کی کامیابی پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ فرحان اور زویا ان کی پہلی اہلیہ ہنی ایرانی کے بچے ہیں۔ فرحان اختر فلمی دنیا میں اداکاری، ہدایت کاری اور پروڈکشن کے شعبے میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں، جبکہ زویا اختر بھی فلم سازی کے میدان میں نمایاں نام ہیں۔ جاوید اختر کی جانب سے فرحان کے بچپن کا یہ واقعہ بیان کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ان کے مذہب اور سیکولر سوچ سے متعلق خیالات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
’کیا ہم مسلمان ہیں؟’ فرحان اخترکے سوال پر جاوید اختر کا جواب وائرل
RELATED ARTICLES



