مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 97ڈی ایس پی صاحب تو ایک سرکش سے گھوڑے پر سوار سب سے آگے آگے تھے۔ تلور کے شکار کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ چند گھوڑ سوار اِس قافلے سے علیٰحدہ ہو کر دُور نکل جاتے ہیں اور پھر اُدھر سے بڑی سُرعت سے گھوڑے دوڑاتے اور شور مچاتے اور کبھی کبھی ہوائی فائر بھی کرتے واپس اپنے قافلے کی طرف آتے ہیں تو اس درمیانی علاقے میں بیٹھے تَلور خوفزدہ ہو کر اُڑتے ہیں اور قافلے والوں کی بندوقوں کے شَرّوں کی زد میں آکر زمین بوس ہوجاتے ہیں۔ جہاں سے اُٹھا کر اُن کو ذبح کر کے بیگ میں ڈال لیا جاتا ہے۔ اِس طرح کئی چکّروں میں جب معقول تعداد میں تلور حاصل ہوئے تو ظاہر ہے وقت بھی بے بہا خرچ ہوا تو یہ مشق اختتام پذیر ہوئی۔ یہی کوئی 4 بجے کے قریب واپسی ہوئی تو وہاں جناب ایک بڑی دعوت کا سماں تھا۔ میزوں پر سفید چادریں لہرا رہی تھیں۔ سلاد کے ڈونگے دعوت نظارّہ دے رہے تھے۔ پھر کیا تھا، بریانی، قورما، نان اور زردہ. .. .. . اور میٹھی اور نمکین چٹنیاں، اور گرما گرم نان لے کر سبھی شکاری پل پڑے۔شام کو واپس آتے آتے سورج غروب ہو چکا تھا لہٰذا اپنے اپنے بیڈ روم کی راہ لی۔ صبح پتہ چلا ڈی ایس پی صاحب گاؤں تشریف لے گئے ہیں۔ واللہ اعلم بالصّواب. .. .. . ہم بھی اپنی روز مرّہ کی سوئل سروے ڈیوٹی پر چلے گئے۔ واپسی پر پتہ چلا کہ ڈی ایس پی صاحب بعد از دوپہر واپس چلے گئے۔ ہرن کا شکار فیلڈ ڈیوٹی میں گاؤں کے نمبرداروں سے اکثر رابطہ رہتا اور اُن سے بعض ضروری معلومات بھی حاصل ہوتیں۔ ایک دفعہ چشتیاں سے کافی دُور چولستان کے ساتھ ساتھ واقع زرعی رقبے کے ایک نمبردار کے پاس بیٹھے تھے کہ وہ خود ہی ہرن کے شکار کی باتیں سنانے لگا۔ کہنے لگا کوئی 2سال پہلے کی بات ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی ہم ہرن کے شکار کے لیے گئے ہوئے تھے۔ چولستان کے بارڈر پر ہم نے دو چھ چھ فٹ کے گڑھے کھود لیے اور بندوقیں سنبھالے شام کو وہاں اُن گڑھوں میں اُتر گئے۔ ہرن رات کو تھل سے نیچے زرعی رقبوں کی طرف آکر وہاں پانی اور ہری بھری فصلوں سے شکم پروری کرتا ہے۔کہنے لگا یہی کوئی 1 گھنٹہ بعد جب ہم دونوں اپنے اپنے گڑھوں میں بیٹھے تھے مجھے چولستان کی طرف کچھ سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ میں نے فواً اندازہ لگالیا کہ ہرن اب چولستان سے نکل کر بس ہماری رینج میں آگیا ہے میں نے فوراً نشست باندھ کر فائر کھول دیا۔ فائر ہوتے ہی ایک انسانی چیخ و پکار جو میں نے سُنی تو اُدھر دوڑا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی میرا ساتھی میرا شکار بن چکا تھا، جو چپکے سے گڑھے سے نکل کر پیشاب کرنے اُدھر گیا تھا۔ اب ہرن کے شکار کے لیے ایل جی کا کارتوس استعمال کیا جاتا ہے لیکن خوش قسمتی یہ ہوئی کہ غلطی سے میں نے 6 نمبر کا کارتوس ڈال دیا اور جو چھوٹے شرّوں پر مشتمل ہوتا ہے اور چھوٹے پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہوتا ہے پھر بھی اُس کا سارا جسم زخمی ہوچکا تھا اور وہ تڑپنے لگ گیا تھا۔ پولیس سے ڈرتے اُس کا علاج ایک پرائیویٹ ڈاکٹر سے کروایا اور بطور ہرجانہ 5 ایکڑ زمین اُس کے نام کی تو جان چھوٹی۔اِس ساری کہانی سننے کے بعد ہم ہرن کا شکار کھیلنے سے باز نہ آئے۔ نمبردار کو ساتھ لیا اور چولستان کے اختتام پر کچھ فاصلے پر دو چھ چھ کے فٹ گہرے گڑھے کھود کر ایک میں نمبردار اور دوسرے میں ہم 2ساتھی بندوق تان کر کھڑے ہوگئے۔ وقت گزرتا گیا۔ ہم سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتے رہے۔ ساری رات گزر گئی۔ کسی ہرن کی شکل یا ہیولا بھی ہمیں نظر نہ آیا تو اس طرح یہ ہرن کے شکار کا تجربہ ناکام رہا۔ لیکن نمبردار پُر امید تھا کہ ایک دفعہ پھر اگلی رات ٹرائی کی جائے لیکن ہم مزید قسمت آزمائی پر آمادہ نہ ہوئے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ جب تک سیاستدانوں میں سیاسی پختگی نہیں ہو گی، تمام تر سرگرمیوں کیلئے پارلیمنٹ کو اپنا مرکز نہیں بنائیں گے ملک اسی طرح پٹری سے اْترتا چڑھتا رہے گا
ہم اپنے اپنے گڑھوں میں بیٹھے تھے، چولستان کی طرف کچھ سرسراہٹ سی محسوس ہوئی،ہماری رینج میں آ گیا،فائر ہوتے ہی انسانی چیخ و پکار سنی تو اُدھر دوڑا
RELATED ARTICLES



