مصنف: شہزاد احمد حمیدقسط: 481اکیڈمی کے دوست؛اس تربیت گاہ میں میرے بہت سے دوست پہلے سے ہی خدمات انجام دے رہے تھے۔
کچھ دنوں کیلئے یہاں آن چھپا تھا۔ خوش پوش، سمجھ دار میں تو اسے ”گجرات کا سقراط“ کہتا تھا، سب میرے دفتر اکٹھے ہوتے اور چائے یا کافی پیتے
RELATED ARTICLES



