وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکی ماریہ بی بی کی مسلمان لڑکے شہریار سے نکاح کو شرعی اور قانونی طور پر درست قرار دیا ہے۔ آئینی عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسلمان مرد اہل کتاب خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، اور چائلڈ میرِج ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی پر صرف سزا کا تذکرہ موجود ہے، نکاح کو منسوخ کرنے کا اختیار قانون میں شامل نہیں۔ عدالت نے ماریہ بی بی کے نکاح کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا اور اس کا ڈیکلریشن بھی موجود ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ حبس بے جا کی درخواست میں لڑکی کی عمر یا دارالفتا کی دستاویز کی درستگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کے احکام کی پابند ہیں۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں، اور سپریم کورٹ کے جو فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں، انہیں آئینی عدالت نظیر کے طور پر ماننے کی پابند نہیں ہے۔ پس منظر کے مطابق، ماریہ بی بی نے اپنی مرضی سے شہریار سے شادی کی تھی، اور اس کے والد نے اغواء کے مقدمے کے علاوہ حبس بے جا کی درخواستیں دائر کیں، جو آئینی عدالت تک جا کر خارج کر دی گئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ شادی کی رضا مندی موجود تھی اور کسی قسم کے اغواء یا زبردستی کا معاملہ نہیں تھا۔



