مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 96لیکن ایک نقص جو اِس جیپ میں تھا وہ اکثر ہمیں پریشان کرتا رہتا تھا۔ وہ تھا جیپ کا ”ڈینمو“۔ جب اکثر گاڑی پوری سپیڈ سے چلاتے تو پتہ چلتا کہ گاڑی کا ڈینمو سڑ گیا ہے۔ اب کیا کریں۔ واحد حل ہوتا کہ کسی نزدیکی شہر میں جیپ لے جائیں، کسی اور گاڑی سے باندھ کر یا ڈینمو اُتار کر۔ وہاں ریوائینڈکروائیں اور پھر دوبارہ فٹ کریں۔ اس کام میں گھنٹوں تو کیا بلکہ سارا دن درکار ہوتا تھا تو اِس طرح بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ”اوکاڑہ“ مین روڈ پر واقع وہ چھوٹی سی ورکشاپ اب بھی آنکھوں کے سامنے ہے جہاں ہم کو رُکنا پڑتا۔ اور ڈینمو ریوائینڈکروانا پڑتا جس کام میں گھنٹوں لگتے تھے۔ بعد میں آنے والی گاڑیوں میں یہ نقص دُور کردیا گیا۔ لاہور سے جب بہاولنگر ایریا کا سروے کرنے نکلتے تو ”ہیڈ بلّوکی“ کے راستے ضلع بہاولنگر میں داخل ہونا ہوتا تھا۔ وہاں ہیڈ پر تفریحاً ٹھہر جاتے۔ وہاں ہیڈ پر کئی دودھ سے کریم نکالنے والی مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ ”گوالے“ دور دراز گاؤں سے بڑے بڑے لوہے کے ”کونٹیلرز“ میں دودھ اِکٹھا کر کے جو وہاں پہنچتے تو توقّف کرتے۔ اپنا اپنا دودھ اُن مشینوں میں ڈلواتے، مشینوں کی گڑ گڑاہٹ کچھ دیر رہتی اور جب مطلوبہ کریم نکل چکی ہوتی تو وہ دودھ پھر انہی ”کونٹیلرز“ میں ڈال دیا جاتا۔ دودھ سے نکلی کریم کی طے شدہ قیمت وصول کرتے اور اپنی اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتے۔ وہاں ہلکے پھلکی خور و نوش کی اِکّا دُکاّ دکانیں بھی تھیں۔ اُن سے کبھی کبھار اَفادہ کرتے اور پھر ہیڈ بلّوکی عبور کر کے ضلع بہاولنگر کی وسعتوں میں ”سوئل سروے“ کا کام جاری و ساری کر دیتے۔ تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر کا سوئل سروے لاہور سے براستہ ہیڈ بلو کی تحصیل چشتیاں جا پہنچے۔ سر دست رہائش کا مسئلہ نہ تھا کہ وہاں بیگم کی سہیلی بلقیس کی ایک کوٹھی میں رہائش تھی۔ چونکہ میری بیگم اور بچہ بھی ساتھ تھا۔ لہٰذا اُن کے ہاں قیام کیا۔ اُن کے خاوند ڈاکٹر محمد منیر تحصیل چشتیاں کے سرکاری ہسپتال میں بھی ڈیوٹی دیتے اور پھر بعد میں چشتیاں کے مین بازار میں کلینک بھی چلاتے تھے۔ اُن کی وہاں نزدیکی گاؤں میں زرعی زمین بھی تھی۔ کچھ دن قیام کیا اور میں خود سوئل سروے کرتارہا۔ پھر وہاں نزدیک چھوٹی نہر پر واقع ریسٹ ہاؤس میں ڈیرہ ڈال دیا۔ وہاں بھی فرصت کے وقت نزدیکی چک نمبر 11 میں گئے، وہاں بیگم کی ”ماسی“ کے 2 لڑکوں کی زرعی اراضی تھی۔ ایک تو پہلے سے شادی شدہ تھا۔ دوسرے کی ہمارے وہاں قیام کے دوران شادی ہوئی تو پھر ہم دلہن سے ملنے بھی گئے۔تلور کا شکار ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں میں اپنی معمول کی سوئل سروے ڈیوٹی کینال ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے انجام دے رہے تھے کہ ایک رات ریسٹ ہاؤس کے دوسرے بیڈ روم میں ایک ڈی ایس پی آگئے وہ ایک تفتیش کے سلسلے میں آئے تھے۔ نزدیکی گاؤں کا ایک نوجوان کنوئیں میں گرا مردہ حالت میں پایا گیا چونکہ معاملہ دست درازی پولیس تھا لہٰذا وہ اپنی اِس ڈیوٹی کو سر انجام دینے آگئے۔مجھے رات کو کھانے پر مدعو کیا اور یوں تعارف ہوگیا ساتھ ہی فرمانے لگے صبح تیّار رہیے گا ”تلور“ کے شکار کے لیے چلیں گے۔ آپ کی دونوں جیپیں ظاہر ہے ساتھ ہوں گی ریتلا علاقہ ہے کوئی پرابلم نہ ہوگی۔ اب اِس چاہت بھری آفر کو کون ٹھکرائے۔اگلی صبح ڈی ایس پی کا عملہ اور ہم سبھی لوگ تلور کے شکار کے لیے روانہ ہوچکے تھے جو وہاں سے 25-30 کلو میٹر کے فاصلہ پر چولستان کے پہلو میں میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔وہاں پہنچے تو دیکھ کر حیران ہوئے کہ وہاں بیس پچیس لوگ تین چار بڑی دیگیں لکڑی کی آگ کے چولہوں پر رکھّے محوکار تھے۔ دلِ ناداں معائنے پر اُتر آیا۔ کہاں ایک کنوئیں میں گرے نوجوان کی لاش کی تفتیش اور کہاں اِتنے شاہی اہتمام سے تلور کا شکار. .. .. . بائیں طرف کھڑے ڈی ایس پی کے استفسار پر کہ جناب آپ گھوڑے کی سواری پر شکار کے لیے جائیں گے یا اونٹ پر کیونکہ وہاں 30-25 گھوڑے اور اونٹ بندھے ہوئے تھے۔ گھوڑ سواری کے ایک بچپن کے تجربے کے بعد گھوڑ سواری سے تو توبہ کر لی تھی، اونٹ سواری کا کہا تو مجھے ایک اونٹ پر سوار کر کے آگے ایک آدمی نکیل پکڑے چلنے لگا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ شکیرا کے قطر اور امارات میں کنسرٹس ملتوی
چاہت بھری آفر کو کون ٹھکرائے، دلِ ناداں معائنے پر اُتر آیا، کہاں کنوئیں میں گرے نوجوان کی لاش کی تفتیش اور کہاں اِتنے شاہی اہتمام سے شکار
RELATED ARTICLES



