85.9 F
Pakistan
Tuesday, June 9, 2026
HomeSportsوحشت کے اندھیروں میں انسانیت کی جیت

وحشت کے اندھیروں میں انسانیت کی جیت

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ درندگی ہے جو انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیتی ہے، تو دوسری طرف وہ بے لوث بہادری ہے جو ڈوبتی ہوئی امیدوں کو سہارا دیتی ہے۔ کوئٹہ میں ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا حالیہ لرزہ خیز واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن اور معاشرتی تنزلی کا واشگاف اشتہار ہے۔ ایک ایسی مسیحا جو لوگوں کی جانیں بچانے کا درس پڑھ کر عملی زندگی میں قدم رکھتی ہے، اسے چند لمحوں کی وحشت کا نشانہ بنا کر زندگی بھر کے لیے اپاہج اور بدصورت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم گریبان میں جھانکیں اور سوچیں کہ بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ آخر کس سمت کی طرف گامزن ہے؟ ہم دن بہ دن ایک ایسے ہجوم میں کیوں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں جہاں برداشت، محبت اور انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے اور وحشت و بربریت ہمارے روزمرہ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔خوش قسمتی سے، اس تاریکی میں جہاں درندے دندناتے پھر رہے ہیں، وہاں عبدالرزاق ترکئی جیسے روشن چراغ بھی موجود ہیں۔ جب سب اپنی جانیں بچا کر بھاگ رہے تھے اور تماشائی بنے ہوئے تھے، تب اس بہادر انسان نے اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر آگے بڑھ کر اس معصوم لیڈی ڈاکٹر کی جان بچائی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا یہ اقدام انتہائی لائقِ تحسین ہے کہ انہوں نے اس فرض شناس اور نڈر شہری کے لیے ‘سول ایوارڈ’ کا اعلان کیا۔ سرفراز بگٹی کے یہ الفاظ سو فیصد سچ ہیں کہ “بہادر اور فرض شناس افراد قوم کا فخر ہوتے ہیں”۔ اگر عبدالرزاق جیسے لوگ معاشرے میں موجود نہ ہوں، تو وحشت کی یہ آگ سب کچھ جلا کر خاکستر کر دے۔ عبدالرزاق ترکئی نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت ابھی مکمل طور پر مری نہیں ہے اور آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کے تحفظ کے لیے اپنی جان داو¿ پر لگا سکتے ہیں۔ دوسری طرف، زخمی ڈاکٹر ماہ نور اس وقت کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے ان کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا، جو کہ حکومتی سطح پر ایک خوش آئند اور ہمدردانہ عمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاست کو اب اس مظلوم بیٹی کے تمام تر طبی اخراجات اور بحالی کی ذمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اٹھانی ہوگی۔جہاں تک قانون اور فوری انصاف کا تعلق ہے، تو صوبائی معاونِ داخلہ بابر خان یوسفزئی کا یہ بیان دل کو تسلی دیتا ہے کہ واقعے میں ملوث مرکزی ملزم ہمایوں شاہ کو محض آدھے گھنٹے کے اندر اندر اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔ ریاست کی طرف سے اس طرح کا فوری اور جرات مندانہ ردعمل مجرموں کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ جب تک مجرموں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان کا انجام فوری اور ہولناک ہوگا، تب تک وہ ایسے جرائم سے باز نہیں آئیں گے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ایک مجرم کو سزا دینے یا منطقی انجام تک پہنچانے سے یہ ناسور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا؟ بالکل نہیں۔ جب تک ہم اس جرم کی جڑوں یعنی اس بیمار سوچ کا خاتمہ نہیں کریں گے، تب تک معصوم بیٹیاں اور بہنیں یوں ہی ہوس، حسد اور انتقام کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی اور معاشرے کا امن داو¿ پر لگا رہے گا۔اس وحشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ایک پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ سب سے پہلے مارکیٹ میں تیزاب کی کھلی اور عام فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ تیزاب صرف لائسنس یافتہ دکانوں سے اور خریدار کا شناختی کارڈ اور مقصد نوٹ کرنے کے بعد ہی فراہم کیا جائے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے دکاندار کو بھی سخت سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں خواتین کے احترام، بنیادی انسانی حقوق اور غصے کے کنٹرول جیسے موضوعات کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ بچپن ہی سے بچوں کی ذہن سازی مثبت خطوط پر ہو سکے۔ میڈیا اور ڈراموں کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا؛ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں تشدد، انتقام اور خواتین پر دست درازی کو گلیمرائز کرنے کے بجائے، خواتین کو بااختیار دکھانے اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینے والے موضوعات کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔معاشرتی سدھار کے لیے ہمارے مذہبی رہنماو¿ں کا متحرک کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماءکرام جمعہ کے خطبات اور مذہبی مجالس میں عورتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ سے متعلق اسلامی تعلیمات کو عام لوگوں تک پہنچائیں تاکہ مذہب کے نام پر عورت کو کم تر سمجھنے کی سوچ کا خاتمہ ہو سکے۔ مزید برآں، نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور جارحانہ مزاج کو سنبھالنے کے لیے سرکاری سطح پر مفت نفسیاتی کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، جہاں ذہنی تناو¿ اور نفسیاتی مسائل کا شکار افراد کا بروقت علاج ہو سکے اور وہ کسی بڑے جرم کی طرف مائل نہ ہوں۔ سوشل میڈیا کے قوانین کو بھی مزید سخت بنانا ہوگا تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والوں یا انہیں ہراساں کرنے والوں کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لایا جا سکے اور معاشرے میں پھیلی اس زہریلی سوچ کو روکا جا سکے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ دراصل ہماری مجموعی تربیت اور قانون کی گرفت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عبدالرزاق ترکئی جیسے لوگ ہمیں یہ امید دلاتے ہیں کہ اچھائی ابھی زندہ ہے، اور بابر خان یوسکزئی جیسے حکام کا فوری ایکشن قانون کی بالادستی کا ثبوت ہے۔ تاہم، معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے صرف وقتی اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں خاندان، تعلیمی ادارے اور ریاست سب مل کر اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے، تب تک ہم ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام رہیں گے۔آخر میں، ضرورت اس امر کی ہے کہ تیزاب گردی، جنسی تشدد اور خواتین کو نشانہ بنانے والے ایسے تمام عناصر کو عبرت کا نشان بنایا جانا انتہائی ضروری ہے۔ قانون کی کتابوں میں موجود سخت ترین سزاو¿ں پر بغیر کسی سیاسی، سماجی یا خاندانی دباو¿ کے فوری اور سرِعام عمل درآمد کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی بھی شخص کو کسی معصوم کی زندگی اور چہرے کو مسخ کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔ جب تک مجرموں کو سرِعام اور عبرت ناک سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک کمزور طبقوں کا تحفظ ممکن نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی معاشرے میں قانون کا خوف قائم ہوگا۔ حکومت، ریاست اور عوام کو مل کر اس ناسور کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اور خصوصاً ہماری بیٹیاں ایک پرامن، آزاد اور محفوظ ماحول میں سانس لے سکیں اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments